اردوئے معلیٰ

ضمیر کی قید میں

بتوں کے آگے نہ سر جھکانا
نہ اپنے دامن میں آگ بھرنا
یہی وہ پہلا پیامِ حق تھا
جسے بھلا کر
ہم آج پھر سے
کئی بتوں کے حضور سجدوں کے امتحاں سے گذر رہے ہیں
اور اپنے دامن میں روز و شب آگ بھر رہے ہیں
خدا کے آگے نہ جھکنے والے
انا و حرص و ہوس کے آگے جھکے ہوئے ہیں
(ضمیر کی قید میں کھڑے ہیں)
خدائے برتر !
بس ایک موقع
ہماری ان بے یقیں سہاروں سے جاں چھڑا دے
نبی کی تعلیم کی ہوئی راہ پر چلا دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ