بخت اپنے بھی اسی طور سنوارے جائیں

بخت اپنے بھی اسی طور سنوارے جائیں

کاش کچھ روز مدینے میں گزارے جائیں

 

روشنی پائے محمدؐ کی نگاہوں سے جہاں

سورج و چاند ضیا پائیں، ستارے جائیں

 

دین آواز دے تجدیدِ محبت کے لیے

اور کربل میں محمدؐ کے دلارے جائیں

 

بے زباں ہو کے بھی ہم کلمہءِ حق بولیں گے

دستِ سرکارؐ میں پتھر بھی پکارے جائیں

 

کوئی آواز سے محبوب نہ بیدار کرے

پاؤں کو چومنے جبریل اتارے جائیں

 

کاش یہ نعت رکھی جائے سبھی کے اوپر

سامنے رب کے جو اعمال ہمارے جائیں

 

خوب اترا کے چلیں حشر کے دن ہم بھی عطا

جب غلامانِ محمدؐ میں پکارے جائیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

غمِ حیات سے گرچہ بہت فگار ہوں میں
محمد کے روضے پہ جا کر تو دیکھو
یہ پیغامِ حبیبِ کبریا ہے
سرمایۂ جمال ہے طیبہ کے شہر میں
دہر کے اجالوں کا، جوبن آپ کے عارض
کچھ ایسی لطف و کرم کی ہوا چلی تازہ
حبیب ربُّ العلا محمد شفیعِ روزِ جزا محمد
اب پردہ پردہ پردہِ سازِ جمال ہے
اب کا منشا ہے کہ پھیلے شہِ ابرار کی بات
آمدِ مصطفیٰ مرحبا مرحبا