بلائے جاں تھی جو بزمِ تماشا چھوڑ دی میں نے

بلائے جاں تھی جو بزمِ تماشا چھوڑ دی میں نے

خوشا اے زندگی خوابوں کی دنیا چھوڑ دی میں نے

 

جو رہتیں بھی تو میرے شوق کی گلکاریاں کب تک

چلو اچھا ہوا تزئینِ صحرا چھوڑ دی میں نے

 

نہ ہو جب حال ہی اپنا تو مستقبل کی پروا کیا

غمِ امروز چھوڑا ، فکرِ فردا چھوڑ دی میں نے

 

مرض وہ ہے کہ صدیاں بھی مداوا کر نہیں سکتیں

توقع تجھ سے اے عمرِ دو روزا چھوڑ دی میں نے

 

اگر مقدور ہو تو پوچھ سیلِ کم سوادی سے

حکایت تیری کیوں اے مردِ دانا چھوڑ دی میں نے

 

مری تقلید میں گُم ہو نہ جائے راہرو کوئی

کہ ہر منزل پسِ نقشِ کفِ پا چھوڑ دی میں نے

 

سحرؔ اب ہو گا میرا ذکر بھی روشن دماغوں میں

محبت نام کی اک رسمِ بے جا چھوڑ دی میں نے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ