اردوئے معلیٰ

Search

شہر میں اسلحہ بلوائی لیے بیٹھے ہیں

اور ہم شکوۂ تنہائی لیے بیٹھے ہیں

 

مرگ تو گھات میں ہے اور ادب کے معمار

فن کی تکمیل یہ سوادائی لیے بیٹھے ہیں

 

اتھلے پانی سے برآمد ہوئی لاشیں اور ہم

فکرِ اقبال کی گہرائی لیے بیٹھے ہیں

 

غالبؔ و میرؔ نے کس کس سے محبت کی تھی

غم یہ تحقیق کے شیدائی لیے بیٹھے ہیں

 

ذوقؔ کو ملتی تھی تنخواہ ظفرؔ سے کتنی

کتنی تھی آمدِ بالائی لیے بیٹھے ہیں

 

جنگ کی فکر ہمیں اور نہ پروائے فساد

ناتوانی میں توانائی لیے بیٹھے ہیں

 

جن کے اطوار سے مانگے ملک الموت پناہ

اُن سے امیدِ مسیحائی لیے بیٹھے ہیں

 

دور اب وہ ہے کہ پیرانِ جہاندیدہ کہیں

طفلِ معصوم کی دانائی لیے بیٹھے ہیں

 

ملک میں شہرت و عزت کے تو دن بیت گئے

اب تو سب خطرۂ رُسوائی لیے بیٹھے ہیں

 

نام کیا شکل بھی اب یاد نہیں ہے ان کو

اور ہم فخرِ شناسائی لیے بیٹھے ہیں

 

اپنی وحشت کا بھی افسانہ اب اتنا ہے سحرؔ

گھر میں اک آہوئے صحرائی لیے بیٹھے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ