اردوئے معلیٰ

بچھڑ کے طیبہ سے دل کی شگفتگی نہ رہی

وہاں سے آئے تو اُمِّیدِ زندگی نہ رہی

 

وہاں خیال بھی ضو ریز تھا ستارہ صفت

یہاں بہار کے موسم میں دلکشی نہ رہی

 

کرم کے پھول سمیٹے وہاں تو ہر لمحہ

بنے جو پھول یہاں ایسی اک کلی نہ رہی

 

وہ عہد جس میں درخشاں تھیں دین کی قدریں

ہوا نگاہ سے اوجھل تو چاندنی نہ رہی

 

سحر کی چاہ تو دل کو بہت ہے پر آقا

زوالِ شب کی کسی کو اُمید ہی نہ رہی

 

شناخت بھول کے غیروں کی سمت دیکھتے ہیں

ہیں سنگ و خشت سے بد تر کہ اب خود ی نہ رہی

 

نہیں کسی کو بھی احساس اپنے لٹنے کا

حقیر شے تھی خودی وہ رہی رہی نہ رہی

 

عجب! کہ عشقِ بلالیؓ کے خوب چرچے ہیں

مگر نہالِ مقاصد میں تازگی نہ رہی

 

جہاد صرف خیالات کی امانت ہے

ادا ہو کیسے امانت، یہ آگہی نہ رہی

 

یہ قوم عزم کی شمعیں بجھا کے بیٹھ گئی

مگر گِلہ ہے! چراغوں میں روشنی نہ رہی

 

حضور ! اب تو دعاؤں کو نور مل جائے!

وہ دن بھی آئے کہیں ہم کہ تیرگی نہ رہی!

 

عزیزؔ درد کا دریا عبور ہو کیسے؟

کہ اِس بھنور سے نکلنے کی آس بھی نہ رہی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات