بچھی ہے مسندِ عز و وقار ان کے لیے

بچھی ہے مسندِ عز و وقار ان کے لیے

سروں کو خم ہیں کیے تاجدار ان کے لیے

 

سجی ہے ان کے لیے محفل نجوم و قمر

ہے آسمان کو حاصل قرار ان کے لیے

 

درود پڑھتی ہیں سر سبز وادیاں ان پر

رواں دواں ہیں سبھی آبشار ان کے لیے

 

اثاثہ نکہت طیبہ کا بھر کے دامن میں

ہوئیں ہوائیں غریب الدیار ان کے لیے

 

خدا نے ان کے لیے کائنات کی تخلیق

ہر ایک نقش بنا شاہکار ان کے لیے

 

یہ میں ہوں اور یہ ہے دامن تہی میرا

نواز دے مرے پروردگار ان کے لیے

 

مجیبؔ راہ تصور میں ایک مدت سے

پڑا ہے قافلۂ انتظار ان کے لیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

طبیعت فطرتاََ پائی سخن کے واسطے موزوں
ہے یہ میدانِ ثنا گر نہ پڑے منہ کے بل
کیفِ یادِ حبیب زیادہ ہے
(سلام) نورِ چشمِ آمنہ اے ماہِ طلعت السلام
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے
سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کیلئے
سرِ میدانِ محشر جب مری فردِ عمل نکلی
راگ ہے ’’باگیشری‘‘ کا اور بیاں شانِ رسول
خواب میں کاش کبھی ایسی بھی ساعت پاؤں

اشتہارات