بڑے ہی اوج پر قسمت مری ہے

بڑے ہی اوج پر قسمت مری ہے

نظر کے سامنے شہر نبی ہے

 

میں دیوانہ ہوں کوئے مصطفیٰ کا

مرے قدموں میں یوں دنیا پڑی ہے

 

انہیں کی نعت سے مطلب ہے مجھ کو

انہیں کا ذکر میری زندگی ہے

 

دیارِ مصطفیٰ کہتے ہیں جس کو

اجالوں کا سمندر وہ گلی ہے

 

گدائے کوچۂ خیرالوریٰ ہوں

مجھے حسرت سے شاہی دیکھتی ہے

 

چراغِ عشقِ آقا کر کے روشن

کیا میں نے علاجِ تیرگی ہے

 

ابھی ہے انجمن میں ذکر ان کا

ابھی روشن چراغِ آگہی ہے

 

نبی کے دوستوں کا دوست ہوں میں

نبی کے دشمنوں سے دشمنی ہے

 

کہی ہے جب سے انجمؔ نعت میں نے

مری سانسوں میں خوشبو بس گئی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دِل میں یادِ نبیؐ کا ڈیرا ہے
وہ جو محبوبِ ربّ العالمیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے
میرے آقا، میرے مولا، میرے رہبر آپؐ ہیں
ہر گھڑی اک یہی ہے لگن یا نبی
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
کوئے رشکِ ارم کا ارادہ کروں
یقیں میں ڈھلتا نہیں ممکنات کا پرتَو
آنکھ کو چھُو کے پسِ حدِ گماں جاتی ہے
ذکرِ رحمتِ مآب ہو جائے
اٹھانا ہے جو برکت زندگی بھر

اشتہارات