بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے

بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے

خیر دشمن کی بھی جھولی میں بھری جاتی ہے

 

بہرِ حسنین بلا لیجیے طیبہ اب تو

ہجر میں عمر مری یونہی کٹی جاتی ہے

 

قلبِ مضطر درِ سرکار پہ فوراً پہنچا

جس گھڑی میں نے سنا بات سنی جاتی ہے

 

آرزو کب سے ہے جاؤں میں درِ آقا پر

مجھ سے دوری نہیں اب اور سہی جاتی ہے

 

چھوڑ کے آپ کا در جائے کہاں یہ زاہدؔؔ

آپ کے در پہ جبیں میری جھکی جاتی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حسرتِ دیدۂ نم، قلبِ تپاں سے آگے
ذی کرم ذی عطا آج کی رات ہے
چوم آئی ہے ثنا جُھوم کے بابِ توفیق
رسول پاک کے جتنے بھی ماہ پارے ہیں
جذبوں کی حرف گہ کو ذرا مُعتبر کریں
دل اماں پائے گا کیونکر باغِ جنت چھوڑ کر
وہ حسنِ مکمل، پیکرِ الفت، خلقِ مجسم کیا کہئے
نعت کے پھول جو ہونٹوں پہ سجا دیتے ہیں
بقدرِ فہم کرتے ہیں ثنا جتنی بھی ہو ہم سے
خدا کے فضل کے ہر دم حصار میں رہنا

اشتہارات