اردوئے معلیٰ

Search

بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے

خیر دشمن کی بھی جھولی میں بھری جاتی ہے

 

بہرِ حسنین بلا لیجیے طیبہ اب تو

ہجر میں عمر مری یونہی کٹی جاتی ہے

 

قلبِ مضطر درِ سرکار پہ فوراً پہنچا

جس گھڑی میں نے سنا بات سنی جاتی ہے

 

آرزو کب سے ہے جاؤں میں درِ آقا پر

مجھ سے دوری نہیں اب اور سہی جاتی ہے

 

چھوڑ کے آپ کا در جائے کہاں یہ زاہدؔؔ

آپ کے در پہ جبیں میری جھکی جاتی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ