اردوئے معلیٰ

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے

جوکچھ بھی آج ہوں میں وہ احسانِ نعت ہے

 

سب لوگ مجھ کو کہتے ہیں جو ان کا نعت گو

اس کو بھی میں کہوں گا کہ فیضانِ نعت ہے

 

کچھ بھی زباں کہے نہ سواان کی مدح کے

ہر پل ہر اک گھڑی مجھے ارمانِ نعت ہے

 

ہر عہد کی زباں پہ محمد کی ہے ثنا

ہر عہد میں ہی، دیکھئے! کیا شانِ نعت ہے!

 

قابل کہاں تھا، آپ نے احسان کر دیا

محشر میں پیش کرنے کو دیوانِ نعت ہے

 

میں خود کو کس طرح سے تہی دست مان لوں

دیکھو! یہ میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے

 

یوں تو ہر ایک نے ہے کہی نعتِ مصطفیٰ

زاہدؔ نےجوکہا ہے وہ سلطانِ نعت ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ