بہتر سبھی ہوتے گئے حالات مسلسل

بہتر سبھی ہوتے گئے حالات مسلسل

جب سے ہے کرم اُن کا مِرے ساتھ مسلسل

 

سرکارِ دوعالم کے مدینے سے جہاں کو

مِلتی ہے عنایات کی سوغات مسلسل

 

ہاتھوں پہ وار دوں میں جہاں کا تمام حُسن

بھرتے ہیں سب کی جھولیاں وہ ہاتھ مسلسل

 

آقا کی رہبری کا یہ احسان دیکھیے

پاتا ہوں میں سب عزتیں دن، رات مسلسل

 

وہ آ گئے تو قبر بھی روشن ہوئی مِری

پُرکیف ہو گئے مِرے لمحات مسلسل

 

خواہش ہے مِری آقا کہ میں دِل سے رضاؔ کی

پڑھتا ہی رہوں آپ کی یوں نعت مسلسل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات