بیادِ قائدِ اعظمؒ (بسلسلۂ جشنِ صد سالہ 1977ء)

لکھیں اہلِ قلم ان کے قصائد

کہ ان پر فرض یہ ہوتا ہے عائد

نظرؔ میں تو کہوں بس ایک جملہ

کروڑوں رحمتیں بر روحِ قائد

 

وہ اک مردِ مجاہد مردِ مومن

وہ خوش باطن مسلمانوں کا محسن

نہ بھولی ہے نہ بھولے یاد اس کی

منائیں ہر برس ہم یاد کا دن

 

چمک اٹھا شرارِ دردِ باطن

ہوئی بیدار چشمِ مردِ مومن

وطن آزاد پاکستاں بنایا

کٹی ظلمت کی شب آخر ہوا دن

 

ضمانت دے کے اک نو مملکت کی

کیا ثابت کہ تھا سچا وہ ضامن

زہے یومِ ولادت پر سعادت

کہیں سب لوگ اس دن کو بڑا دن

 

ہیں پاکستان کے بانی جنابِ قائدِ اعظم

حقیقت بن گیا دیکھیں کہ خوابِ قائدِ اعظم

سوالِ قومِ مسلم ہے تمام اقوامِ عالم سے

کہیں سے لا کے دکھلائیں جوابِ قائدِ اعظم

 

مردِ مؤمن وہ اک تہِ افلاک

تیز و طرار و دیدہ ور بے باک

موجِ طوفاں اسے خس و خاشاک

سرنگوں اس سے فتنۂ چالاک

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پوری نہ جس طرح سے ہو حمدِ خدا کبھی
نہ ہے اِدّعائے سخن وری، نہ ہے مجھ کو نام کی آرزو
پھر دل میں آئی یادِ آں ذاتِ عالم آرا
دل بستگی نہ ہو تری مدحت لکھے بغیر
مہرباں مجھ پہ مرا جب کہ خدا ہو جائے
اللہ کی رحمت ہے تری چشمِ کرم اور
یا ایّھَُا النّبیؐ وَ یا ایّھَُا الرّسول
خدا نے چن کے رکھا ہے مبارک نامِ نامی ہے
نغمہ سرا ہوں میں بھی شہِ نامدار کا
روح کی بالیدگی اور دل کی فرحت کے لئے

اشتہارات