اردوئے معلیٰ

Search

تارہ تارہ بکھر رہی ہے رات

دھیرے دھیرے سے مر رہی ہے رات

 

ہاتھ میں کاسۂ فراق لئے

سر جھکائے گزر رہی ہے رات

 

کتنی تنہا فضا ہے گلیوں کی

سرد آہیں سی بھر رہی ہے رات

 

میری آوارگی کے پہلو میں

کو بکو در بدر رہی ہے رات

 

اک دریچے سے راہ تکتی ہے

سہمی سہمی ہے، ڈر رہی ہے رات

 

آئنہ رو ہے منتظر کب سے

بال کھولے سنور رہی ہے رات

 

نیم روشن سی خوابگاہوں میں

بے لبادہ بکھر رہی ہے رات

 

برگِ عارض پہ صورتِ شبنم

قطرہ قطرہ اُتر رہی ہے رات

 

پھر تجھے بھولنے کی کوشش میں

جانے کیا یاد کر رہی ہے رات

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ