تجھ کو دلِ فسردہ جو تسکین چاہیے

تجھ کو دلِ فسردہ جو تسکین چاہیے

ہونا بس ان کی یاد میں غمگین چاہیے

 

آئیں گے وہ ضرور مگر ایک شرط ہے

سوز وفا سے قلب کی تزئین چاہیے

 

جو مست جام عشق رسول کریم ہے

اس کی پناہ لے لے اگر دین چاہیے

 

ہم کیوں تلاش ضابطۂ زندگی کریں

ہم کو نبی کے عشق کا آئین چاہیے

 

وقت اجل عزیزو ! مری جان کے لیے

نام رسول پاک کی تلقین چاہیے

 

تسکین جان و تن کے لیے اے مرے کریم!

طیبہ کی سر زمیں پئے تدفین چاہیے

 

پہلے ہو میری آنکھ میں روئے شہ امم

پھر اس کے بعد سورہ یٰسین چاہیے

 

مانگوں جو میں دعا میں مدینہ تو قدسیو!

لب سے تمہارے بس مجھے آمین چاہیے

 

اشعار میرے نورؔ کریں کاش وہ قبول

خلقت سے مجھ کو داد نہ تحسین چاہیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ