اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

ترےؐ غلام کا انعام ہے عذاب نہیں

 

ترےؐ غلام کا انعام ہے عذاب نہیں

یہ ایک میٹھی حقیقت ہے کوئی خواب نہیں

 

مرے نبیؐ کے اشاروں پہ رقص کرتا ہے

مرے نبیؐ کا کھلونا ہے ماہتاب نہیں

 

وہ احترام کے قابل نہیں ہمارے لیے

کہ جس کے دل میں تراؐ جذبِ اضطراب نہیں

 

ازل سے جلوئہ یزداں چھپا رہا ، لیکن

حضورؐ آپؐ سے پردہ نہیں حجاب نہیں

 

ہر اک سوالی تراؐ با مراد ہو کے گیا

ترےؐ کرم کی کوئی حد نہیں حساب نہیں

 

حبیبؐ ایک ہی واحد نے خلق فرمایا

حضورؐ آپؐ کا ثانی نہیں، جواب نہیں

 

طلب کے ہاتھ میں اشفاقؔ اور کچھ بھی نہیں

حضورؐ تیرےؐ سوا کوئی انتخاب نہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حصار نور میں ہوں گلشن طیبہ میں رہتا ہوں
اپنے بھاگ جگانے والے کیسے ہوں گے
لمحہ لمحہ بڑھ رہی ہے شان ورفعت آپ کی
تمنا ہے یہی دل میں سمائی یا رسول اللہﷺ
نور احمد باعث آفاق شد
یہ دل سکونت خیرالانام ہو جائے
اک چشمِ کرم ، شاہِ اُمم ، سیّدِ لولاک !
سنّت کی پیروی بھی ہے لازم ثنا کے ساتھ
مہر و مہ و انجم کی، تنویر کا وہ باعث
آنکھ ہجرِ شہِ دیں میں روتی رہے ، نعت ہوتی رہے