تصّور غیر ممکن رفعت و شان محمد کا

تصّور غیر ممکن رفعت و شان محمد کا

عبث ہے ڈھونڈنا جس طرح آدم کے اب وجد کا

 

سکھائے صبح کن ، اللہ نے اسمأ جب آدم کو

سکھایا سب سے پہلے اسم‘​ آدم کو محمد کا

 

قیامت تک کے اَسرارِ رسالت اس کو سمجھائے

بتایا بھید اُسے ختمِ رَسل کے قامت و قد کا

 

کوئی گِن ہی نہیں سکتا ‘​ کوئی لکھ بھی نہیں سکتا

بھرم کھولا ترے اوصاف نے اعداد و ابجد کا

 

غلام ’اس کے کروڑوں ہر زمیں پر‘​ ہر زمانے میں

نہیں موجود و امکاں میں کوئی ثانی محمد کا

 

علامت ہے یہ تیرے آستاں بو سی کی خواہش کی

تری چوکھٹ کو جھک جھک دیکھنا چرخِ زبر جد کا

 

ہزاروں سال کی دُوری کی خندق پاٹ جاتا ہے

نبی کے لمسِ لب کا قرب آور بوسہ اسود کا

 

نہیں ہے بال بھر نظمِ دو عالم میں خلا کوئی

مکاں ہو یا زماں صدقہ ہے اک میم مشدد کا

 

جو کچھ بھی ہے‘​ جہاں پر بھی ہے ‘​موجودات و امکاں میں

تشکّر مست تیری رحمتِ بے حصرو بے حد کا

 

نبّوت طے اَزل سے تھی ‘​ تری مابعدِ محشر بھی

کوئی کس طرح ہو سکتا ہے وارث تیری مسند کا

 

کشش آور خیال اُن کا ہے ایسے نعت گوئی میں

گماں ہر کوششِ آورد پر ہوتا ہے آمد کا

 

طلوع نعت کا آغاز اس سدرہ سے ہوتا ہے

جہاں ہے خاتمہ امکانِ فن کی آخری حد کا

 

پیالہ با پیالہ متصّل قوسین سا املا

زمیں سے عرش تک رحمت نما ہے میم کی شدکا

 

جہانوں بھر کے قطبینوں میں پھیلی ہے تری رحمت

پیالہ با پیالہ ‘​ متصل کونین سی شد کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ