تعریف رب کی جس نے ، سارا جہاں بنایا​

تعریف رب کی جس نے ، سارا جہاں بنایا​

ہر شے کو حسن دے کر ، پیارا سماں بنایا​

 

مخلوق ساری اپنی ، قدرت سے ہے بنائی​

کیسی زمیں بچھائی ، کیا آسماں بنایا​

 

رسوائی ہو کہ عزت ، غم یا خوشی کی حالت​

اللہ نے ہی سارا ، سود و زیاں بنایا​

 

شب روز کو کیا ہے ، اک دوسرے میں داخل​

شمسی نظام سارا ، گردش کناں بنایا​

 

عرصہ ہوا بشر کا ، کچھ ذکر ہی نہیں تھا​

خالق نے پھر ہمارا ، نام و نشاں بنایا​

 

طائر فضا میں سارے ، ہیں حکمِ رب سے قائم​

ان کا ٹھکانہ رب نے ، ہے آشیاں بنایا​

 

بچوں کو بھولپن اور عورت کو نازکی دی​

بوڑھوں کو دی ذہانت ، مردِ جواں بنایا​

 

دریا کو جوش بخشا ، گہرائی بحر کو دی​

وہ بےسکوں بنایا ، یہ بےکراں بنایا​

 

خاروں کو گل نوازے ، بحروں کو موتی بخشے​

لب کو دیا تکلم ، دل بے زباں بنایا​

 

سرشار ہے اسامہ ، رب کی صفات میں گم​

اس کو خدا نے اپنا ، ہے مدح خواں بنایا​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اسم اللہ، میری جاگیر
اذانوں میں صلوٰتوں میں، خدا پیشِ نظر ہر دم
خدا کی ذات پر ہر انس و جاں بھی ناز کرتا ہے
خدا موجود ہر سرِ نہاں میں
خداوندِ شفیق و مہرباں تو
خدا کا نام میرے جسم و جاں میں
خدائے پاک کا فیض و عطا جاری و ساری ہے
خدا موجود ہر جا ہر زمن میں
خدا کا پیار ستر ماؤں جیسا
خدا کی نعمتیں جھُٹلائیں کیسے