تمام عمر یہی میں نے ایک کام کیا

تمام عمر یہی میں نے ایک کام کیا

درود ان پہ پڑھا، اور انہیں سلام کیا

 

ملائکہ نے توجہ کے موتی برسائے

نبی کے ذکر کا ہم نے جو اہتمام کیا

 

کہاں ٹھکانہ ہے تیری عطا کا میرے نبی

خدا نے کشورِ الطاف تیرے نام کیا

 

درِ نبی کی غلامی کا تاج سر پہ تھا

امیرِ شہر نے بڑھ کر اسے سلام کیا

 

چراغِ عشقِ نبی سے ہے تیرا دل روشن

نجات کے لیے کیا خوب انتظام کیا

 

نبی کے کوچۂ روشن کی گفتگو چھیڑی

دلِ فسردہ کو یوں ہم نے شاد کام کیا

 

زمانہ اس کے قدم چومنے بڑھا آگے

رسولِ پاک نے جس شخص کو غلام کیا

 

رسولِ پاک نے جو شے حلال کی وہ ہوئی

حرام ہوگئی وہ شے جسے حرام کیا

 

جبیں پہ ملتے رہے کوچۂ رسول کی خاک

یہی بس ایک عمل ہم نے صبح و شام کیا

 

وہ ہے مدینہ کوئی ایسا ویسا شہر نہیں

وہاں کے سنگ کا بھی ہم نے احترام کیا

 

نمازِ عشق کی نیت جو میں نے باندھی مجیبؔ

خیالِ سرورِ کونین کو امام کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ