تمام منظرِ سیر و ثبات تیرے لئے

تمام منظرِ سیر و ثبات تیرے لئے

یہ سب جہان، یہ کُل کائنات تیرے لئے

 

گماں کے گھر میں پڑے تھے جو بے نمود ابھی

یقیں میں ڈھل گئے وہ ممکنات تیرے لئے

 

خطا سزا کا سبب تھی، سزا فنا کی دلیل

نہیں تھی پہلے، بنی ہے جو بات تیرے لئے

 

حجابِ غیب میں تھیں سب صفاتِ نور و شہود

کہ کنزِ مخفی تھی خود بھی وہ ذات تیرے لئے

 

جو تیری شان کے شایاں ہو اور مجھ سے ہو

کہاں سے لاؤں مَیں آقا وہ نعت تیرے لئے

 

طلسم و اسم سے ممکن نہیں بقا اس کی

رواں دواں ہے یہ تارِ حیات تیرے لئے

 

وفورِ شوق دلیلِ ثنا نہیں مقصود

وہ اذن دے تو ہی بنتی ہے بات تیرے لئے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ