اردوئے معلیٰ

توفیقِ الٰہی سے مستانہ ہوں مستانہ

توفیقِ الٰہی سے مستانہ ہوں مستانہ

سرکار کے جلوؤں کا دیوانہ ہوں دیوانہ

 

میرے بھی گھرانے پر انوار کی بارش ہے

یہ آپ کی آقا جی! ہے چشمِ کریمانہ

 

سرکار کی آمد سے آباد ہوا عالم

ورنہ تو یہ عالم تھا ویرانہ ہی ویرانہ

 

سلطانِ مدینہ کا ہے مجھ پہ کرم یارو!

نعتوں کا سخن تب ہی بخشا گیا شاہانہ

 

اے کاش! کہ مدحت میں یہ عمرمری گزرے

مقبول جہاں بھر میں ہو میرا بھی نذرانہ

 

صدیق ، عمر ، عثماں ، حیدر سے ہے آقا کا

کس درجہ حسیں دیکھو یارانہ ہی یارانہ

 

دیدار عطا کر دو صدقے میں نواسوں کے

یہ دل کی تمنا ہے اے جلوئہ جانانہ

 

جبریلِ امیں سے بھی خادم ہیں رضاؔ جن کے

سرکارِ دوعالم کا وہ گھر ہے شریفانہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ