تو اعلیٰ ہے ارفع ہے کیا خوب ہے​

تو اعلیٰ ہے ارفع ہے کیا خوب ہے​

تو سچا ہے پیارا ہے محبوب ہے​

 

تجھے ڈھونڈتا ہوں میں شام و سحر​

میں طالب ہوں، تو میرا مطلوب ہے​

 

نہ کیوں آئے پیتے ہی رگ رگ میں جاں​

کہ ذکرِ الہٰی کا مشروب ہے​

 

سو میرے سخن کا ہے محور ثنا​

مجھے بس تری حمد مرغوب ہے​

 

تو خالق ہے مالک ہے غالب ہے تو​

یہ بندہ ہے عاجز ہے مغلوب ہے​

 

تو کامل ہے اکمل ہے بے عیب بھی​

یہ ناقص ہے خاطی ہے معیوب ہے​

 

ترے در پہ نادم کھڑا ہے اثرؔ​

معافی گناہوں کی مطلوب ہے​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کرم کا مرحلہ پیشِ نظر ہے
خدا نے سب جہاں پیدا کئے محبوبؐ کی خاطر
خدا کے ذکر پر مامور ہوں میں
حمد ہے آفتاب کا منظر
اور کہاں کو جائیں یا رب
نام بھی تیرا عقیدت سے لیے جاتا ہوں
جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا
الہیٰ ! جب سے تجھ سے رابطہ ہے
ترے کرم تری رحمت کا کیا حساب کروں
خدا ہے حامی و ناصِر ہمارا