تُو پھر سے لوٹ آئی مری شامِ غم تو سُن

تُو پھر سے لوٹ آئی مری شامِ غم تو سُن

کچھ دیر ٹھہر جا ابھی رویا ہوا ہوں میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ترے بِن گھڑیاں گِنی ھیں رات دن
خموشیوں کی زباں بھی سمجھنا ہو گی اُسے
کچھ ایسے لمحۂ موجود میں پیوست ہے ماضی
یہ اور بات غلامی قبول کی تیری
رسم الٹی ہے خوب رویوں کی
کیوں نہ تنویر پھر اظہار کی جرآت کیجیے
رات کوچۂ جاں میں اس قدر اداسی تھی
اس قدر قحط ، تعلق کا پڑا ہے کہ مجھے
یہ بھی ممکن ہے تیری جدائی میں سنور جاؤں میں
ہم کون شناور تھے کہ یوں پار اترتے

اشتہارات