اردوئے معلیٰ

تِری حمد میں کیا کروں اے خُدا

مِرا علم کیا ہے، مِری فکر کیا

 

میں ہُوں بے خبر، تو خبیر و علیم

میں حادث ہُوں اور ذات تیری قدیم

 

مکاں ہے تِرا، لامکاں ہے تِرا

زمیں ہے تِری، آسماں ہے تِرا

 

تجھی سے صبا ہے تجھی سے سموم

زمیں پر ہے گل ،آسماں پر نجوم

 

ضیائے رُخ زندگی، تجھ سے ہے

جہاں بھی ہے رخشندگی تُجھ سے ہے

 

محیطِ دو عالم ہے قدرت تِری

ہے کثرت کے پردے میں وحدت تری

 

تِرے زمزمے آبشاروں میں ہیں

تِری عظمت کو ہساروں میں ہے

 

انکسار عجز خلوص اور اللہ تعالی کے مقابلے میں انسان کی مکمل بے بسی اور اس کے باوجود اسی کے ساتھ ساری امیدوں کی وابستگی وہ معیار ہے جو اس حمدیہ کلام کے انتخاب میں میرا معیار رہا ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات