تھکن سے جب بدن ٹوٹے گا تو آرام کر لیں گے

تھکن سے جب بدن ٹوٹے گا تو آرام کر لیں گے

ابھی دن ہے جہاں سورج ڈھلے گا شام کر لیں گے

 

ہمیں اپنے ارادوں کی ثباتی پر بھروسہ ہے

ہم اپنی منزلوں کے راستوں کو رام کر لیں گے

 

چراغِ زیست کی افسانویت کے جو قائل ہیں

وہی اندھے خنک جھونکوں کو اپنے نام کر لیں گے

 

کبھی ہم میں طلب جاگی اگر بادہ گساری کی

لہو کو مے سمجھ لیں گے ، بدن کو جام کر لیں گے

 

کسی دن لوٹ آئیں گے اچانک شہرتوں سے ہم

تِری خواہش پہ اپنے آپ کو گمنام کر لیں گے

 

ابھی تو برسرِ پیکار رہنا ہے ہمیں خود سے

کبھی مہلت ملے گی تو ادھورے کام کر لیں گے

 

کسی تذلیل سے پہلے جدا ہو جائیں گے اشعرؔ

اُسے آغاز سونپا تھا تو ہم انجام کر لیں گے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں
ھجر میں ھے یہی تسکین مُجھے
وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ مجھے مناؤ
پڑھا گیا مرا روزِ جزا جو نامہِ عشق
تحریر سنبھالوں ، تری تصویر سنبھالوں
پھول کھلا روِش روِش ، نُور کا اہتمام کر
خُدا نے تول کے گوندھے ہیں ذائقے تم میں
اچھا ہوا بسیط خلاؤں میں کھو گئے
تم نے یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا؟
چکھنی پڑی ہے خاک ہی آخر جبین کو

اشتہارات