تھک ہار کے دم توڑ دیا راہ گذر نے

تھک ہار کے دم توڑ دیا راہ گذر نے

کیا روپ نکالا ہے جواں ہو کے سفر نے

 

میں زخم کی تشہیر نہیں چاہتا ورنہ

شہکار تراشہ ہے ترے دستِ ہنر نے

 

میں کون سی تاویل گھڑوں اپنی بقاء کی

تم کو چلو روک لیا موت کے ڈر نے

 

پھر شہر رہا ، یا نہ رہا روئے زمیں پر

دیکھا نہ پلٹ کر بھی ترے شہر بدر نے

 

وہ بوجھ محبت کا بھلا خاک اُٹھاتا

رکھا ہو پریشان جسے دوش پہ سر نے

 

کیا خوب تماشہ ہے سرِ بزمِ تمنا

آیا ہے کوئی عہدِ محبت سے مکرنے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ