اردوئے معلیٰ

Search

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا

میری قسمت جگانا تیرا کام ہے

 

میری آنکھوں کو ہے دید کی آرزو

رخ سے پردہ اٹھانا تیرا کام تھا

 

تیری چوکھٹ کہاں اور کہاں یہ جبیں

تیرے فیضِ کرم کی تو حد ہی نہیں

 

جس کو دنیا میں نہ کوئی اپنا کہے

اس کو اپنا بنانا تیرا کام ہے

 

باڑا بٹتا ہے سلطان کونین کا

صدقہ مولا علی صدقہ حسنین کا

 

صدقہ خواجہ پیا غوث السقلین کا

حاضری ہوگئی یہ بھی انعام ہے

 

میرے دل میں تیری یاد کا راج ہے

ذہن تیرے تصور کا محتاج ہے

 

اک نگاہِ کرم ہی میری لاج ہے

لاج میری نباہنا تیرا کام ہے

 

پیش ہر آرزو ہر تمنا کروں

تھام لو جالیاں التجائیں کرو

 

مانگنے والو دامن کشادہ کرو

کملی والے کا فیضِ کرم عام ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ