اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

تیرے نام کا ورد پِیا

تیرے نام کا ورد پِیا

ہونٹوں کی مجبوری ہے

 

میرے وقت کی دلہن نے

چپ کا زیور پہنا ہے

 

ہجر زدہ دیوانوں کو

موسم راس نہیں آتے

 

میں اپنی تنہائی سے

سب کچھ ٹھیک نہیں کہتا

 

آپ کبھی خاموشی سے

باتیں کر کے دیکھو نا

 

میری آنکھ میں ساون کے

بادل چھائے رہتے ہیں

 

خواب خفا ہو جاتے ہیں

محرومی رہ جاتی ہے

 

بے ہوشی کے عالم میں

ہوش محبت کیا کرتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تُو اگر وقت بن کے مل جاتا
مجھے پائمال تو کر کبھی
جسے مانگتا ہوں میں ہر دعا کی اخیر تک
درد سوغات تھی اداسی کی
ہجر کا سوز کیا وصال کا دُکھ
آؤ ماتم کریں اُداسی کا
درد بھی اِس اَدا سے ہوتا ہے
سرد ہوائیں بول رہی ہیں، بالکل اُس کے لہجے میں
میرا احساس کانپ اُٹھا ہے
اک اثر جو مری زبان میں ہے