ثبوت کوئی نہیں ہے ، گواہ کوئی نہیں

ثبوت کوئی نہیں ہے ، گواہ کوئی نہیں

گناہگارو ! تمہارا گناہ کوئی نہیں

 

فصیل و بام نہ دیوار و در نہ بندِ قبا

نگاہِ عشق میں حدِ نگاہ کوئی نہیں

 

ترے بدن سے مرے دل تلک ہیں خواب ہی خواب

مگر ہمارے لیے خوابگاہ کوئی نہیں

 

ہماری خاک کرے گی سفر ستارہ وار

ہماری آخری آرام گاہ کوئی نہیں

 

پھر ایک دن کہا آدم نے اپنی حوّا سے

یہ پہلا بوسہ ہے ، اِس کا گناہ کوئی نہیں

 

کسی سے ایسا تعلق بنا لیا ہے کہ اب

کسی بھی اور تعلق کی چاہ کوئی نہیں

 

!یہ مملکت ہے محبت کی سو یہاں مرے دوست

سبھی غلام ہیں اور بادشاہ کوئی نہیں

 

!مجھے یہ کہنا نہیں چاہیے مگر فارس

مرے علاوہ مرا خیر خواہ کوئی نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دوائیں رکھتے ہوئے، نشتروں کے ہوتے ہوئے
بازی انا کی، بھوک سے کیسی بری لگی
شب فراق کا منظر نہیں بدلنے دیا
خوشی کی خبریں نہیں چلاتے ہیں ، گریہ زاری چلا رہے ہیں
زمانے بھر کی گردشوں کو رام کر کے چھوڑ دوں
اور اک غم کا اعتراف ہوا
لوگوں نے اس لئے مجھے پاگل نہیں کہا
لہروں پہ سفینہ جو مرا ڈول رہا ہے
شجر کہاں تک بھلا ہواؤں کے کان بھرتے
قربت سے ناشناس رہے ، کچھ نہیں بنا