اردوئے معلیٰ

ثبوت کوئی نہیں ہے ، گواہ کوئی نہیں

گناہگارو ! تمہارا گناہ کوئی نہیں

 

فصیل و بام نہ دیوار و در نہ بندِ قبا

نگاہِ عشق میں حدِ نگاہ کوئی نہیں

 

ترے بدن سے مرے دل تلک ہیں خواب ہی خواب

مگر ہمارے لیے خوابگاہ کوئی نہیں

 

ہماری خاک کرے گی سفر ستارہ وار

ہماری آخری آرام گاہ کوئی نہیں

 

پھر ایک دن کہا آدم نے اپنی حوّا سے

یہ پہلا بوسہ ہے ، اِس کا گناہ کوئی نہیں

 

کسی سے ایسا تعلق بنا لیا ہے کہ اب

کسی بھی اور تعلق کی چاہ کوئی نہیں

 

!یہ مملکت ہے محبت کی سو یہاں مرے دوست

سبھی غلام ہیں اور بادشاہ کوئی نہیں

 

!مجھے یہ کہنا نہیں چاہیے مگر فارس

مرے علاوہ مرا خیر خواہ کوئی نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات