اردوئے معلیٰ

آج اردو کے مشہور انشا پرداز‘ ڈرامہ نگار‘ افسانہ نگار اور شاعر حکیم احمد شجاع کا یومِ وفات ہے

حکیم احمد شجاع(پیدائش: 4 نومبر 1893ء- وفات: 4 جنوری 1969ء)
——
اردو کے مشہور انشا پرداز‘ ڈرامہ نگار‘ افسانہ نگار اور شاعر حکیم احمد شجاع کی تاریخ پیدائش 4 نومبر 1896ء ہے۔
احمد شجاع نے لاہور سے میٹرک کرنے کے بعد ایم اے او کالج علی گڑھ سے ایف اے اور پھر میرٹھ کالج سے بی اے کیا اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوگئے۔ 1920ء میں پنجاب اسمبلی سے منسلک ہوئے اور پھر اس اسمبلی کے سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ اس کے ساتھ ہی وہ 1948ء سے 1969ء تک مجلس زبان دفتری کے سیکریٹری بھی رہے اور ان کی رہنمائی میں ہزاروں انگریزی اصطلاحات کا اردو ترجمہ ہوا۔
حکیم احمد شجاع اردو کے صف اول کے ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے بہت سے افسانے بھی لکھے‘ ناول بھی تحریر کیا اور کئی فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : مشہور شاعر اور طبیب، حکیم محمد ناصر کا یومِ وفات
——
انہوں نے ایک ادبی رسالہ ہزار داستان اور بچوں کا رسالہ نونہال بھی نکالا۔ اپنی خود نوشت خوں بہا کے نام سے تحریر کی اور لاہور کے اندرون بھاٹی دروازے کی ادبی تاریخ لاہور کا چیلسی کے نام سے رقم کی۔ وہ قرآن پاک کی تفسیر بھی تحریر کررہے تھے جس کا نام افصح البیان رکھا گیا تھا مگر بدقسمتی سے یہ کام مکمل نہ ہوسکا اور صرف پانچ پاروں ہی کی تفسیر لکھی جاسکی۔
حکیم احمد شجاع نے 4 جنوری 1969ء کو لاہور میں وفات پائی اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔
——
کچھ اپنے بارے میں از حکیم احمد شجاع
——
شاعری نہ میرا پیشہ ہے نہ عادت ۔ قسّامِ ازل کی فیاضی سے طبیعت حساس اور موزوں ضرور پائی ہے ۔ جب کبھی کسی نازک جذبے کو محسوس کرتا ہوں یا کوئی عجیب حقیقت دیکھتا ہوں ، اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں پھر اُس پہ فکر کرتا ہوں اور اگر کوئی بات سمجھ میں آ جائے تو اسے مناسب الفاظ میں لکھ لیتا ہوں ، کبھی یہ اظہار نثر کی چھوٹی سی عبارت میں ہو جاتا ہے تو کبھی نظم کے ذرا سے ٹکڑے میں ۔ یہ دونوں چیزیں میرے نزدیک شعر ہیں ۔
مجھے اس بات کا بھی دعویٰ نہیں کہ جن جذبات اور حقائق پر میں نے اظہارِ خیال کیا ہے اس پہ مجھ سے پہلے کسی اور نے اظہارِ خیال نہیں کیا یا اُن کے متعلق جس نتیجے پر میں پہنچا ہوں اس پر مجھ سے پہلے کوئی نہیں پہنچا ۔
میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میرے یے یہ تاثرات نئے ہیں اور ان کے متعلق جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ میرے اپنے تخیل اور میری اپنی فکر کا ماحصل ہے ۔
میں نظم اور نثر کی کسی خاص صنف کا بھی ماہر نہیں اور زبان اور محاورے کے بارے میں میرا کلام کوئی سند بھی نہیں ہوتا تاہم جو کچھ لکھتا ہوں اور نظم اور نثر کی جس صنف میں لکھتا ہوں اس کے اہتمام میں جہاں تک ہو سکتا ہے اُس کے امتیازات کو ملحوظِ خاطر رکھتا ہوں ۔
محاورے کی تحقیق اور صنائع ادب کی پابندی بڑی کاوش اور کوشش سے کرتا ہوں اور تخیل کی جولانیوں کو اساتذہ کرام کی مقرر کی ہوئی قیود سے آزاد نہیں ہونے دیتا ۔ پھر بھی اگر میرے کلام میں کوئی غیر مانوس اور غیر معروف چیز نظر آ جائے تو اس کا سبب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ کبھی کبھی شاعر باوصفِ احتیاط اپنے آپ سے بیگانہ ہو جاتا ہے ۔ اور اس کی فکر شدتِ احساس سے مجبور ہو کر ان زنجیروں کو توڑ دیتی ہے جو پرانی رسموں اور مستند تمیزوں نے اس کے پاؤں میں ڈال رکھی ہیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : شاکر شجاع آبادی کا یوم پیدائش
——
میری نظم و نثر کے اشعار کا وہ مجموعہ جو اس کتاب کی صورت میں شائع ہو رہا ہے ، ایک قسم کی ڈائری ہے جس میں واقعات اور حالات کی جگہ ذہنی کیفیات اور نفسیاتی تاثرات قلمبند کیے گئے ہیں ۔ اور جس میں ترتیب و تدوین کا کوئی التزام نہیں ہے ۔
حمد ، نعت ، مدح ، منقبت ، مرثیہ ، غزل ، رباعی غرض جو کچھ اس کتاب میں ہے میں اس میں وہی اور اتنی ہی بات لکھی ہے جو مجھے اس میں نظر آئی اور جس کے اظہار کو میں نے شعر سمجھا ۔
خوامخواہ کی طوالت اور سخن سرائی میری شاعری کا مقصود نہیں نہ میرے اشعار میں اسے تلاش کرنا چاہیے ۔
میرے احباب نے جب کبھی نظم و نثر کے یہ بکھرے ہوئے ٹکڑے دیکھے یا میرے اشعار سنے ، اُن کی قدر کی ۔ اور اب انہیں کی قدر افزائی اس کتاب کی طباعت اور اشاعت پر مصر ہے ۔
——
منتخب کلام
——
خیر البشر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
——
اے رسولِ ہاشمی ، اے سرِّ تکوینِ حیات
اے کہ تیری ذات ہے وجۂ نمودِ کائنات
تو نہ تھا تو محفلِ کون و مکاں بے رنگ تھی
تو نہ تھا تو بزمِ ہستی سازِ بے آہنگ تھی
حسنِ فطرت میں ابھی ذوقِ خود آرائی نہ تھا
عشق ابھی تک دشمنِ صبر و شکیبائی نہ تھا
تلخیٔ حق سے ابھی ناآشنا گفتار تھی
عقلِ انسانی ابھی پابستۂ انکار تھی
سربلندوں کی جبیں سجدے سے نورانی نہ تھی
حسن تھا پر عشق کی کچھ ایسی ارزانی نہ تھی
چشمِ انساں میں ابھی تک جستجو حیراں نہ تھی
سینۂ انساں میں آہِ نیم شب لرزاں نہ تھی
آںکھ میں آنسو نہ تھے سر میں نگوں ساری نہ تھی
قلبِ مومن کی جہاں میں گرم بازاری نہ تھی
خواب میں آسودہ ابراہیمؑ کی تکبیر تھی
ہیبتِ ضربِ کلیمؑ اک خوابِ بے تعبیر تھی
بربطِ داؤدؑ اک مدت سے رہنِ زنگ تھی
مے تو تھی لیکن بہت بے کیف اور کم رنگ تھی
تو نے آتے ہی بدل دی طرحِ تقویمِ حیات
ہو گئیں پابندِ امکانِ عمل ناممکنات
قالبِ ہستی میں دوڑا دی شعاعِ زندگی
ہو گئی ارزاں ترے دم سے متاعِ زندگی
اس قدر تو نے بڑھائی قیمتِ خود آگہی
مردِ مومن کی نظر میں بوریا ، تختِ شہی
اس طرح توڑا طلسمِ باطلِ حرص و ہوس
چشمِ اعرابی میں کسریٰ کا تجمل ، خار و خس
زندگی تیرے لیے اک داستانِ عشق و مرگ
یہ جہانِ بے ثبات اک کاروانِ عشق و مرگ
پیکرِ گِل کو کیا توحید کا سرِّ جلی
خاک کو دی قدرتِ نشوِ حسین ابنِ علی
——
کس کی تلاش ہے کہ ہر اک رہ گذر کو میں
یوں دیکھتا ہوں جیسے کوئی چیز کھو گئی
——
یہ وقتِ نزع ہے بیمارِ غم کی آخری شب ہے
ستم گر حیلہ جُو اب تو یہ صبح و شام رہنے دے
——
اُفق پر دھواں سا یہ کیا اُٹھ رہا ہے
ترے حق میں ظالم دعا ہو رہی ہے
——
ہزار خُم ہوں مگر مے سے جی نہیں بھرتا
یہ خواہشوں کا سمندر کبھی نہیں بھرتا
——
یہ جان جائے تو جائے ہوس نہیں جاتی
یہ آگ وہ ہے جو بجھنے میں نہیں آتی
——
درویش کو ہوائے ہو سہائے خام کیا
دنیا کے مخمصوں سے فقیروں کو کام کیا
——
ہوس کی آگ تکمیلِ ہوس سے بجھ نہیں سکتی
کبھی آتش کی تیزی خار و خس سے بجھ نہیں سکتی
——
حسن دے کر پھول کو صحرا میں پیدا کر دیا
گوہرِ رخشاں کو وقفِ قعرِ دریا کر دیا
ہے نظامِ زندگی بالاتر از ادراک و فہم
بس یہی کہیے کہ اس نے جو بھی چاہا کر دیا
——
عورتوں کے ایک آنسو میں ہے امرت کا اثر
اِن کی ہمدردی میں پنہاں مرہمِ زخمِ جگر
یہ بسا دیتی ہیں اُجڑے گھر ذرا سی بات میں
اس جہاں کی زندگی عورت ہے ، قصہ مختصر
——
پلا شراب کہ فصلِ بہار ہے ساقی
جنوں کے دور کا کیا اعتبار ہے ساقی
یہ لال لال سی شے جو بھری ہے مینا میں
علاجِ گردشِ لیل و نہار ہے ساقی
——
بُت گری
——
بُت شکن ! بُت گری غیروں نے سکھائی تجھ کو
توڑ کر عہدِ کہن شرم نہ آئی تجھ کو
بُتِ کافر کی ادا کون سی بھائی تجھ کو
کچھ تو سن کہتی ہے کیا آج خدائی تجھ کو
کفر ہسنتا ہے کہ تو صاحبِ ایماں نہ رہا
ناز تھا جس پہ خدا کو بھی وہ انساں نہ رہا
——
کوئی چارا ہی نہیں عشق کی بیماری کا
یہ ہے اک سلسلہ انسان کی لاچاری کا
روز پیمانِ وفا ، روز شکستِ پیماں
یہ بھی شاید کوئی انداز ہو دلداری کا
یوں گھٹانا تھا تو اتنا نہ بڑھایا ہوتا
سیکھتے کوئی سلیقہ تو ستم گاری کا
اس جوانی میں ہر اک چیز مزا دیتی ہے
ہائے وہ طلف جوانی کی زیاں کاری کا
کھو گئے ایک ہی جلوے میں سرِ طُور کلیمؑ
کس کو دعویٰ ہے ترے سامنے ہُشیاری کا
حشر میں ڈھونڈ رہی ہے تری رحمت مجھ کو
یہ بھی اعجاز ہے اک میری گنہگاری کا
ساحر اب بھی کہیں ملتا ہے تو میخانے میں
کس قدر پاس ہے اس رند کو خودداری کا
——
حوالہ جات
——
تحریر و شعری انتخاب از خوں بہا ، حصہ اول
مصنف : حکیم احمد شجاع ، شائع شدہ : 1943، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات