اردوئے معلیٰ

Search

ثنائے ربِ جلیل ہے اور روشنی ہے

نبی کا ذکرِ جمیل ہے اور روشنی ہے

 

جہاں جہاں بھی حضور اکرم نے پاؤں رکھا

قدم قدم اک دلیل ہے اور روشنی ہے

 

چہار سُو ہے کبوتروں کا حصارِا بیض

سفید سی اک فصیل ہے اور روشنی ہے

 

حیات کی یا ممات کی آزمائشیں ہوں

وہی کفیل و وکیل ہے اور روشنی ہے

 

وہیں پہنچ کر خدا سے ہوں گے قریب تر ہم

جہاں خدا کا خلیل ہے اور روشنی ہے

 

میں تشنگی اور تیرگی کا ڈسا ہوا ہوں

وہ میٹھے پانی کی جھیل ہے اور روشنی ہے

 

حیاتِ احمد کا لمحہ لمحہ ، مرے سفر میں

نفس نفس سنگِ میل ہے اور روشنی ہے

 

میں ایک کشکول بن کے خیرات کا ہوں طالب

اُدھر عطا کی سبیل ہے اور روشنی ہے

 

اَزّل سے جو موجزن ہے آبِ رواں کی صورت

درود کا رودِ نیل ہے اور روشنی ہے

 

نسیم لب پر جو اُن کی مدحت کے گل کھلے ہیں

سخن کی اک سلسبیل ہے اور روشنی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ