جامعِ اوصاف ہے جو حسن کی تصویر ہے

جامعِ اوصاف ہے جو حسن کی تصویر ہے

وہ نبیؐ مجھ کو ملا ہے یہ مِری تقدیر ہے

 

کیا ہے زورِ حیدریؓ کیا قوت شبیرؓ ہے

زورِ بازوئے محمدؐ ہی کی اک تعبیر ہے

 

تزکیہ اخلاق کا، افکار کی تطہیر ہے

ہر طرح تذکیر ہے، تنذیر ہے، تبشیر ہے

 

کس طرح سنورے بشر غوطہ زنِ تدبیر ہے

وہ کہ ہے معمارِ انساں فکرِ ہر تعمیر ہے

 

وہ رفیعُ الذِّکر ہے از فضلِ ربِّ ذوالجلال

فرش سے تا عرش اس کے نام کی تکبیر ہے

 

صورتِ انور خوشا دیباچۂ اُمّ الکتاب

سیرتِ اطہر کتاب اللہ کی تفسیر ہے

 

ذی وجاہت، ذی حشم، ذی جاہ و عالی مرتبت

وہ امام الانبیا ہے، صاحبِ توقیر ہے

 

وہ ہے محبوبِ خدا بھی، وہ شہِ لولاک بھی

کائنات اس کی ہے سب اس کے لیے تسخیر ہے

 

معتکف ہو کر بہ قرآں چنتے رہیے دُرِّ ناب

بخششِ شاہِ ہدیٰؐ ہے مفت کی جاگیر ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دشتِ فراق میں ہے دلوں میں عجب کسک
پھر اہلِ حرم سے ملاقات ہوتی
چہرۂ فکر مرے خون سے روشن ہو گا
عاشق ہوا ہے جس کا وہ خالق علی الخصوص
جس طرح حسیں گل کسی گلدان میں رکھا
قبائے عجز میں سہمے ہوئے سوال کے ساتھ
دنیا کے شہنشاہوں سے اعلٰی ہوں بھلا ہوں
امکان جس قدر مرے صبح و مسا میں ہیں
پُرکیف آرزُو کا نگر جا کے دیکھیے
ہاتھ میں تھامے ہوئے اُن کی عطا کا دامن