جانے والا اضطراب دل نہیں

جانے والا اضطراب دل نہیں

یہ تڑپ تسکین کے قابل نہیں

 

جان دے دینا تو کچھ مشکل نہیں

جان کا خواہاں مگر اے دل نہیں

 

تجھ سے خوش چشم اور بھی دیکھے مگر

یہ نگہ یہ پتلیاں یہ تل نہیں

 

رہتے ہیں بے خود جو تیرے عشق میں

وہ بہت ہشیار ہیں غافل نہیں

 

جو نہ سسکے وہ ترا کشتہ ہے کب

جو نہ تڑپے وہ ترا بسمل نہیں

 

ہجر میں دم کا نکلنا ہے محال

آپ آ نکلیں تو کچھ مشکل نہیں

 

آئیے حسرت بھرے دل میں کبھی

کیا یہ محفل آپ کی محفل نہیں

 

ہم تو زاہد مرتے ہیں اس خلد پر

جو بہشتوں میں ترے شامل نہیں

 

وہ تو وہ تصویر بھی اس کی جلالؔ

کہتی ہے تم بات کے قابل نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مُجھے اک رس بھری کا دھیان تھا، ھے اور رھے گا
پہنچ سے دُور ، چمکتا سراب ، یعنی تُو
میں عِشق زار میں اِس دِل سمیت مارا گیا
گناہ کیا ہے؟ حرام کیا ہے؟ حلال کیا ہے؟ سوال یہ ہے
مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے
کمبخت دل کو کیسی طبیعت عطا ہوئی
وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی
پا ہی گئی ہے خاک ٹھکانہ ، خاکِ ازل کی پرتوں میں
اک حدِ اعتدال پہ لرزاں ہے دیر سے