اردوئے معلیٰ

جانے کتنے راز چھپے ہیں ٹھہرے ٹھہرے پانی میں

کون اُتر کر دیکھے اب اس یاد کے گہرے پانی میں

 

جل پریوں کی خاموشی تو منظر کا ایک دھوکا ہے

فریادوں کا شور مچا ہے اندھے بہرے پانی میں

 

کوئی سیپ اُگلتی ہے موتی اور نہ موجیں کوئی راز

حرص و ہوا کے ایسے لگے ہیں چار سُو پہرے پانی میں

 

جھیل کے نیلے آئینے پر پتھر پھینکنے والو تم!

ساحل پر اب بیٹھ کے دیکھو بگڑے چہرے پانی میں

 

چاہا ہم نے جھیل کنارے چاندنی راتوں میں جن کو

کھلتے ہیں بَن بَن کے کنول وہ پھول سے چہرے پانی میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات