اردوئے معلیٰ

Search

جبیں میری ہے، اُن کا سنگِ در ہے

محبت کا جہاں، پیشِ نظر ہے

 

کہاں تابِ سخن، ایسے میں گویا

مرا قلبِ تپاں ہے، چشمِ تر ہے

 

نہیں بے چارا و بے آسرا میں

مری سرکار، میری چارا گر ہے

 

مرے مُونس، مرے خیر الوریٰ ہیں

مرا ہمدم، مرا خیر البشر ہے

 

میں اِس الطاف کے قابل کہاں تھا

کرم اُن کا ہے، رُخ اُن کا اِدھر ہے

 

ہیں اُس کا آپ ہی محکم سہارا

جو مُجھ سا بے ہنر، بے بال و پر ہے

 

ظفرؔ مسکیں کو قدموں میں جگہ دیں

ٹھکانہ اس کا ہے کوئی نہ گھر ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ