اردوئے معلیٰ

Search

 

جب بھی پہنچا ہوں آقا کے دربار تک

آنکھ کہنے لگی ہو کے سرشار تک

 

محوِ پرواز ہے پھر تخیل مرا

پھر سے بڑھنے لگی دل کی رفتار تک

 

قدسیوں نے تراشی ہے روشن لکیر

عرش سے روضۂ شاہِ ابرار تک

 

آپ جیسا کوئی تھا نہ ہوگا کہیں

ذاتِ بے مثل سیرت سے کردار تک

 

ہو مدینے کی دل میں کسک مرتضیٰؔ

یہ تڑپ مجھ کو لے جائے سرکار تک

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ