اردوئے معلیٰ

جب تلک باقی رہے آنکھوں میں بینائی دکھا

جو دکھانا چاہتا ہے ، عہدِ رسوائی دکھا

 

لے ترے قدموں میں لا ڈالا ہے اپنی لاش کو

اب اگر اعجاز رکھتا ہے ، مسیحائی دکھا

 

خون سے لکھے ہوئے اشعار کی تشہیر پر

جو ترے حصے میں آئی وہ پذیرائی دکھا

 

تیری ہئیت ہی سراپا تذکرہ ہے دشت کا

کیا ضرورت ہے کہ اس کو آبلہ پائی دکھا

 

کب تلک ناچوں گا اپنی ذات کے زندان میں

ائے تماشہ گر ، مجھے کوئی تماشائی دکھا

 

ڈوبنا حسرت بھی ہے لیکن مری توہین بھی

جو مرے شایان ہو پہلے وہ گہرائی دکھا

 

تو اکھاڑے میں فقط تفریح کا سامان ہے

کھیل کو دلچسپ کر تھوڑی سی پسپائی دکھا

 

تیرگی میں روشنی کی کوئی تو تدبیر کر

آگ ہی مجھ کو بھلے ائے میری تنہائی دکھا

 

آرزو کی پشت سے پوشاکِ خاموشی اُلٹ

عشق کی سفاکیت کی کارفرمائی دکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات