اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

جب تک کہ جان جان میں اور دم میں دم رہے

 

جب تک کہ جان جان میں اور دم میں دم رہے

ہے آرزو کہ دل تری چوکھٹ پہ خم رہے

 

عظمت کو ان کی عرش نے جھک جھک کیا سلام

جو لوگ تیرے ساتھ رہیں ستم رہے

 

گر فکر ہو تو تیری اطاعت کی فکر ہو

گر غم رہے تو تیری محبت کا غم رہے

 

سیرت میں تیری کوئی کہیں پیچ و خم نہ تھا

کچھ خم رہے تو گیسوئے مشکیں میں خم رہے

 

سوچا تھا میرے جرم و خطا حد سے بڑھ گئے

دیکھا جو حشر میں تری رحمت سےکم رہے

 

اتنی ہی تیرے لطف سے محرومیاں رہیں

جتنے کہ وصف غیر میں مصروف ہم رہے

 

بی من بہار حسن تو گردد نہ ہیچ کم

بی تو نشاط را بہ سوئی ماست کم رہے

 

کچھ کی طرف قدم قدم اپنا قلم گیا

مضمون کچھ رواں دواں سوئے قلم رہے

 

جو لوگ تیرے طرہ مشکیں پہ ہیں فدا

لوح حیات پر وہیں مشکیں رقم رہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کُھلتے رستے جنگل صحرا جو ہے سب کچھ ان کا ہے
مَیں مدینے جو پہنچی تو دل میں مرے روشنی ہو گئی
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
مٹا دل سے غمِ زادِ سفر آہستہ آہستہ
سنہرے موسم
رکھا بے عیب اللہ نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا نسب نامہ​
حقیقت میں تو اس دنیا کی جو یہ شان و شوکت ہے
نبی کی نعت پڑھتا ہوں کہ ہے یہ دل کشی میری
جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو