جب تیرے حضور سر جھکایا

جب تیرے حضور سر جھکایا

ہستی کا تمام راز پایا

 

جب دل پہ تجھے محیط پاؤں

پھر کیوں سرِ کوہِ طُور جاؤں

 

تو میری وفا کا امتحاں ہے

تو میری انا کا پاسباں ہے

 

جب بھی تجھے بے نقاب دیکھوں

ہر ذرے میں آفتاب دیکھوں

 

یہ میرا قلم یہ میری دولت

شاعر کی حیات کی صداقت

 

یہ تیری ثنا کے گیت گائے

خود اپنی وفا کو آزمائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ