اردوئے معلیٰ

جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی

جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی

پھیلی ہے قلب و روح میں مدحت کی روشنی

 

اللہ نے تو خود ہی کیا ہے یہ اہتمام

بخشی ہے اُن کے ذکر کو رفعت کی روشنی

 

ذکرِ رسولِ پاک سے پہنچی ہے قلب تک

وہ سلسبیلِ نور وہ جنت کی روشنی

 

معیارِ حسنِ خُلق وہی شخص بن گیا

جس کو ملی ہے اُن کی اطاعت کی روشنی

 

یثرب کو بھی مدینے کا اعزاز مل گیا

خیرالبشر سے پائی جو ہجرت کی روشنی

 

ذوقِ عمل اُبھر کے بنے آفتابِ حق!

ہر سمت پھیل جائے صداقت کی روشنی!

 

بس اک نگاہِ لطف و کرم چاہیے حضور

اُمت کو ہو نصیب شرافت کی روشنی

 

صدقے میں اُن کی مدح نگاری کے پا سکوں

اے کاش! روزِ حشر شفاعت کی روشنی

 

سچائی کے چراغوں سے روشن ہو کل جہاں

یوں ہو نصیب شمعِ ہدایت کی روشنی

 

پھیلے شمیم، خُلقِ رسالت پناہ کی

اُمت کو ہو نصیب اطاعت کی روشنی

 

کشکول بن گیا دلِ فرقت زدہ عزیزؔ!

دیکھی ہے جب سے اُن کی سخاوت کی روشنی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ