اردوئے معلیٰ

جب مدینے کا مسافر کوئی پا جاتا ہوں

حسرت آتی ہے یہ پہنچا میں رہا جاتا ہوں

 

دو قدم بھی نہیں چلنے کی ہے مجھ میں طاقت

شوق کھینچے لیے جاتا ہے میں کیا جاتا ہوں

 

قافلے والے چلے جاتے ہیں آگے آگے

مدد اے شوق کہ پیچھے میں رہا جاتا ہوں

 

اس لیے کہ نہ ملے روکنے والوں کو پتہ

محو کرتا ہوا نقشِ کفِ پا جاتا ہوں

 

فیضِ مولا سے ابھی صبر کی طاقت ہے امیرؔ

جو کڑی سامنے آتی ہے اُٹھا جاتا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات