جب مرے آقا ﷺ نے سیدھا راستہ بتلا دیا

جب مرے آقا ﷺ نے سیدھا راستہ بتلا دیا

کاروانِ زیست پھر کیوں پیچ و خم کی نذر ہے؟

اُمتِ مسلم کی ساری اُلجھنیں کیوں ختم ہوں؟

عزم کا سیماب ہی جب زیر و بم کی نذر ہے

پارسائی کی سند جن جن کو یاں درکار تھی

برملا کہتے تھے جاں اہلِ حَکَم کی نذر ہے

سخت مشکل ہے کہ رشتہ دین سے قائم رہے

روشنی ایمان کی دام و درم کی نذر ہے

جس حرارت سے جلا ملتی مرے اعمال کو

وہ بھی اب افسوس سب کی سب شکم کی نذر ہے

 

خلد کی چاہت دلوں کی گرد میں گم ہو گئی

روشنی الفت کی شدَّادی اِرَم کی نذر ہے

میرے احساسات میرے شعر پر بھاری پڑے

شعر بھی اندیشۂ ظلم و ستم کی نذر ہے

حاکمِ دوراں بھی رہزن ہے یہاں محکوم بھی

سب کا ایماں ہی سرابِ بیش و کم کی نذر ہے

دولتِ ایماں لٹا بیٹھے ہیں سب بازار میں

سب کی پونجی راحتِ لا و نَعَم کی نذر ہے

عافیت کی راہ دکھلاتا تو ہوں سب کو عزیزؔ

پھر بھی میری فکر اصحابِ ہِمَمْ کی نذر ہے

صرف ہوتی جو توانائی جہادِ عصر میں

وہ توانائی تو سب اہلِ نَغَم کی نذر ہے

 

(قطعہ بند:۲۹؍نومبر۲۰۱۶ء)

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے خوشا آندم کہ گردم مست بایت یا رسول
ہجر تیرا مجھر اچھا نہیں ہونے دے گا
چراغ ِ عشق جلا ہے ہمارے سینے میں
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
اے شہ انس و جاں جمال جمیل
گو ترقی پہ جمالِ مہِ کامل ہووے
حق نے تجھ کو بادشاہ ِ انس و جاں پیدا کیا
اصحاب یوں ہیں شاہِ رسولاں کے اردگرد
عزم
سرد ہوا نفرت کا جہنم ِکھلے پیار کے پھول