اردوئے معلیٰ

جس میں ترا عکس اتر گیا ہے

آئینہ وہی سنور گیا ہے

 

جو نام پہ تیرے مر گیا ہے

دنیا میں وو نام کر گیا ہے

 

بیگانہ رہا جو تیرے در سے

کم بخت وہ در بدر گیا ہے

 

جس کو بھی ملا ترا سفینہ

خوش بخت وہ یار اتر گیا ہے

 

آئینۂ مصطفیٰ میں آ کر

کیا جلوۂ حق نکھر گیا ہے

 

باطل کو مٹا کے حق کا پرچم

تا عرش بلند کر گیا ہے

 

حق تجھ پہ نثار اور حق پر

سب کچھ تو نثار کر گیا ہے

 

وہ نور کہ تھا حرا کی زینت

کونین پہ اب بکھر گیا ہے

 

فردوس بکف ہوئیں وہ راہیں

جن راہوں سے تو گزر گیا ہے

 

کم یاب بہت تھا نور یزداں

اس نور کو عام کر گیا ہے

 

چڑھتا ہوا اہرمن کا دریا

آتے ہی ترے اتر گیا ہے

 

جبریل کی سدرہ تک رسائی

تو دور سے دور تر گیا ہے

 

مست مئے حق رہ فنا سے

بے خوف و خطر گزر گیا ہے

 

صہبائیؔٔ بے نوا کے دل میں

تو اپنا ہی نور بھر گیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات