جلا کے ایک دیا طاقچے میں چھوڑ آیا

جلا کے ایک دیا طاقچے میں چھوڑ آیا

میں اک ہوا کو یونہی وسوسے میں چھوڑ آیا

 

میں لے کے آ گیا ان آبلوں کو منزل تک

میں راستے کو کہیں راستے میں چھوڑ آیا

 

تو چاہ کر بھی کبھی خود کو دیکھ سکتا نہیں

میں اتنے عکس ترے آئینے میں چھوڑ آیا

 

جب اپنے خواب الگ کر لیے کسی نے تو

میں اس کے بعد اسے رتجگے میں چھوڑ آیا

 

تری کتاب سے خوشبو نہ جائے گی میری

میں اپنے لفظ ترے حاشیے میں چھوڑ آیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ