اردوئے معلیٰ

جلوہ ہے یا نُور ہے ،یا نُور کا پردہ تیرا

جلوہ ہے یا نُور ہے ،یا نُور کا پردہ تیرا

پر جلے جس جائے پر ، جِبریل بھی جُویا تیرا​

 

فکر میں ڈُوبا میں جتنا تُو اُبھرتا ہی گیا​

خاک پائے وصف تیری ، خاک کا پُتلا تیرا​

​ 

اُجلا اُجلا نُور مانو ہے تلاشِ روشنی​

جلوہ ہے یا طُور ہے یا نُور کا دریا تیرا​

 

​خِیرہ خِیرہ ہو گئی ہیں نَین کی بینائیاں​

کونسی آنکھوں سے اب ہو دیدِ نادیدہ تیرا ؟

 

طُور کے میدان میں ہےَ لن ترانی کی فضا

ہوش میں مدہوش ،غش کھائے یہ بندہ تیرا​

 

ہر جگہ موجود تُو ، دِکھنا یا نہ دِکھنا، تیرا

خُود کو جو پالے ، سو ہو گا وُہی گویا تیرا​

​ 

سات پردوں میں رہے تُو یا حجاب ِعَین میں

علم کی آنکھوں سے سمجھ پاؤں میں آپا تیرا​

 

اُس کو پانا ہے تو سؔعدِی پا ندامت کا سُخن

گونج اُٹھے گا کلامُ اللہ سے سَینا تیرا​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ