جلوہ ہے یا نُور ہے ،یا نُور کا پردہ تیرا

جلوہ ہے یا نُور ہے ،یا نُور کا پردہ تیرا

پر جلے جس جائے پر ، جِبریل بھی جُویا تیرا​

 

فکر میں ڈُوبا میں جتنا تُو اُبھرتا ہی گیا​

خاک پائے وصف تیری ، خاک کا پُتلا تیرا​

​ 

اُجلا اُجلا نُور مانو ہے تلاشِ روشنی​

جلوہ ہے یا طُور ہے یا نُور کا دریا تیرا​

 

​خِیرہ خِیرہ ہو گئی ہیں نَین کی بینائیاں​

کونسی آنکھوں سے اب ہو دیدِ نادیدہ تیرا ؟

 

طُور کے میدان میں ہےَ لن ترانی کی فضا

ہوش میں مدہوش ،غش کھائے یہ بندہ تیرا​

 

ہر جگہ موجود تُو ، دِکھنا یا نہ دِکھنا، تیرا

خُود کو جو پالے ، سو ہو گا وُہی گویا تیرا​

​ 

سات پردوں میں رہے تُو یا حجاب ِعَین میں

علم کی آنکھوں سے سمجھ پاؤں میں آپا تیرا​

 

اُس کو پانا ہے تو سؔعدِی پا ندامت کا سُخن

گونج اُٹھے گا کلامُ اللہ سے سَینا تیرا​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نام بھی تیرا عقیدت سے لیے جاتا ہوں
جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا
تجھی سے التجا ہے میرے اللہ
ترے کرم تری رحمت کا کیا حساب کروں
خدا ہے حامی و ناصِر ہمارا
خدایا میں نحیف و ناتواں کمزور انساں ہوں
سدا دِل میں خدا کی یاد رکھنا
کہوں حمدِ خدا میں کس زباں سے
ترے انوار دیکھوں یا خُدا مجھ کو نظر دے
خدا قائم ہے دائم جاوداں ہے