جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​

جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​

دو عالم کی رونق تری خوش جمالی​

 

خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انسان​

یہ سب کچھ ہے تری ستودہ خصالی

 

تو فیاضِ عالم ہے دانائے اعظم​

مبارک ترے در کا ہر اِک سوالی​

 

نگاہِ کرم ہو نواسوں کا صدقہ​

ترے در پہ آیا ہوں بن کے سوالی

 

میں جلوے کا طالب ہوں ، اے جان عالم!​

دکھادے ،دکھادے وہ شانِ جمالی

 

ترے آستانہ پہ میں جان دوں گا

نہ جاوٗں ، نہ جاوٗں ، نہ جاوٗں گا خالی

 

تجھے واسطہ حضرتِ فاطمہ کا​

میری لاج رکھ لے دو عالم کے والی

 

نہ مایوس ہونا ہے یہ کہتا ہے بھگوان

کہ جودِ محمدؐ ہے سب سے نرالی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زیرِ افلاک نطق آقا کا
حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
ہماری جاں مدینہ ہے، ہمارا دل مدینہ ہے
خدا نے مغفرت کی شرط کیا راحت فزا رکھ دی
محمد مصطفیٰ یعنی خدا کی شان کے صدقے
زندگی شاد کیا کرتی ہے
نعت لکھنی ہے مگر نعت کی تہذیب کے ساتھ
لمحہ لمحہ شمار کرتے ہیں
مدینہ کی بہاروں سے سکونِ قلب مِلتا ہے
ہوں میری باغ و بہار آنکھیں

اشتہارات