جمال دید سے مسرُور رکھنا

جمال دید سے مسرُور رکھنا

سرور و کیف سے معمور رکھنا

میں ہوں دامن دریدہ، دل تپیدہ

مجھے دامن میں ہی مستور رکھنا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دل سے تم عزت محمد ﷺ کی کرو
حضور آپ کا گھر حاصل زمان ومکاں
کب تک یہ مصیبتیں اُٹھائے اسلام
دل میں سرکارؐ کی محبت ہے
نبیؐ کے عشق میں مسرُور رہنا
مریضِ عشق کو سرکارؐ کا دیدار ہو جائے
جبیں میری ہے اُنؐ کا آستاں ہے
نہیں اُنؐ سا زمین و آسماں میں
زندگانی کا یہ قرینہ ہو
’’قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نوٗر کے‘‘