جن ﷺ کے اوصافِ حمیدہ کا خزانہ بے قیاس

جن ﷺ کے اوصافِ حمیدہ کا خزانہ بے قیاس

اُن ﷺ کی خدمت میں کروں کیا پیش میں حرفِ سپاس

 

جب زوالِ اُمتِ آقا ﷺ کا آتا ہے خیال

ڈوبنے لگتا ہے دل ہوتا ہے کچھ اتنا اُداس

 

اب اِسے قعرِ مذلت میں بھی ملتا ہے سکوں

بے حسی اس درجہ آتی ہے کسی ملت کو راس؟

 

اب اُسی ملت کے ذہن و دل میں بت ہیں بے شمار

دین کی جس کے، فقط توحید پرہی تھی، اساس

 

دیکھتا ہوں جب حرم کے پاسبانوں کو عزیزؔ

ٹوٹتی ہے ظلمتِ شب میں سحر ہونے کی آس

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دان لینے کو میں سرکارؐ سفر کر آیا
خزاں سے کوئی طلب نہیں ہے بہار لےکر میں کیا کروں گا
سب یار فلاں ابنِ فلاں بھول گیا ہوں
جہاں میں مرتبہ جس نے بهی چاہا
خاکِ کوئے جناب ہو جائوں
بابِ مدحت پہ مری ایسے پذیرائی ہو
لبوں پہ جب بھی درود و سلام آتا ہے
شیرازہ بندِ دفترِ امکاں ہے شانِ حق
آپ کی یادوں سے جب میری شناسائی ہوئی
بارگۂ جمال میں خواب و خیال منفعل