اردوئے معلیٰ

جن کے اوصافِ حمیدہ کا خزانہ بے قیاس

اُن کی خدمت میں کروں کیا پیش میں حرفِ سپاس

 

جب زوالِ اُمتِ آقا کا آتا ہے خیال

ڈوبنے لگتا ہے دل ہوتا ہے کچھ اتنا اُداس

 

اب اِسے قعرِ مذلت میں بھی ملتا ہے سکوں

بے حسی اس درجہ آتی ہے کسی ملت کو راس؟

 

اب اُسی ملت کے ذہن و دل میں بت ہیں بے شمار

دین کی جس کے، فقط توحید پرہی تھی، اساس

 

دیکھتا ہوں جب حرم کے پاسبانوں کو عزیزؔ

ٹوٹتی ہے ظلمتِ شب میں سحر ہونے کی آس

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات