اردوئے معلیٰ

جو ایک باس گھنے جنگلوں میں آتی ہے

وہی مہک سی تری گیسوؤں میں آتی ہے

 

یہ المیہ ہے کہ میں جس پہ خوب ہنستا ہوں

کہ اس کو نیند مرے بازوؤں میں آتی ہے

 

گزر گئی ہے پھر اک اور رات سوچتا ہوں

جو روشنی سی کبھی روزنوں میں آتی ہے

 

شکست، کرب، ندامت، خجالتیں، وحشت

یہ ایک جان بڑی مشکلوں میں آتی ہے

 

تو اپنا درد کا ترکش سکوں سے خالی کر

مجھے بھی موت کئی مرحلوں میں آتی ہے

 

یہ اتفاق ہے اب تیری شکل میں آئی

شکست ورنہ کئی صورتوں میں آتی ہے

 

لہو کا ذائقہ اپنا بھی خوب ہوتا ہے

عجب مٹھاس سی جیسے لبوں آتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات