اردوئے معلیٰ

جو بھی اُن کی گلی میں آیا ہے

جو بھی اُن کی گلی میں آیا ہے

اس نے قدموں کا نور پایا ہے

 

ناز ہے ہم کو ایسی ہستی پر

جس کا ثانی نہ کوئی سایہ ہے

 

ہو گیا اُن کے رو برو حاضر

گر شجر کو کبھی بلایا ہے

 

ڈھال لو خود کو اُن کی سیرت میں

یہی اسلام نے سکھایا ہے

 

جب بھی آیا لبوں پہ نامِ نبی

ہم نے آصف سُرور پایا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ