اردوئے معلیٰ

جو مدینہ ہم بھی جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

جو مدینہ ہم بھی جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

وہیں راہ بھُول جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

 

میری زیست کے عناصر درِ مصطفی پہ چل کر

میرا ساتھ چھوڑ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

 

یہ ہوا کے مست جھونکے جو ارم سے آرہے ہیں

یہی طیبہ ہو کے آتے تو کچھ اور بات ہوتی

 

یہ ستاروں کا تبسّم ہے نظر نواز لیکن

جو حضور مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی

 

مجھے زہر دینے والے بڑے کم نظر ہیں آقا

تیرے نام پر پلاتے تو کچھ اور بات ہوتی

 

یہ جو نعتِ پاک بیکلؔ سرِ بزم پڑھ رہے ہو

جو مدینہ میں سناتے تو کچھ اور بات ہوتی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ