اردوئے معلیٰ

میاں محمد بخش کا یوم وفات

آج پنجابی زبان کے معروف شاعر میاں محمد بخش کا یوم وفات ہے

( پیدائش: 1830ء وفات: 22 جنوری 1907ء )
———-
میاں محمد بخش قادری پنجابی زبان کے معروف شاعر تھے۔ انہیں رومی کشمیر کہا جاتا ہے۔
آپ 1830ء بمطابق 1246ھ میں کھڑی کے ایک گاؤں چک ٹھاکرہ میر پور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق گجر فیملی سے ہے۔
میاں محمد بخش والد کا نام میاں شمس الدین قادری تھا اور دادا کا نام میاں دین محمد قادری تھا ان کے آباؤاجداد چک بہرام ضلع گجرات سے ترک سکونت کر کے میر پور میں جا بسے۔
ان کا حسب نسب 4 پشتوں کے بعد پیرا شاہ غازی دمڑی والی سرکار سے جا ملتا ہے۔ نسبا آپ فاروقی ہیں سلسلہ نسب فاروق اعظم پر ختم ہوتا ہے دربار کھڑی شریف کی مسند کافی مدت تک آپ کے خاندان کے زیر تصرف رہی۔
ابتدائی تعلیم کھڑی کے قریب سموال کی دینی درسگاہ میں حاصل کی جہاں آپ کے استاد غلام حسین سموالوی تھے آپ نے بچپن میں ہی علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کی اور ابتدا ہی سے بزرگان دین سے فیوض و برکات حاصل کرنے کے لیے سیر و سیاحت کی کشمیر کے جنگلوں میں کئی ایک مجاہدے کیے شیخ احمد ولی کشمیری سے اخذ فیض کیا۔
میاں محمد بخش چکوتری شریف گئے جہاں دریائے چناب کے کنارے بابا جنگو شاہ سہروردی مجذوب سے ملاقات کی ان کی بیعت میاں غلام محمد کلروڑی شریف والوں سے تھی۔
میاں محمد بخش کا سلسلہ طریقت قادری قلندری اور حجروی ہے۔ آپ نے زندگی بھر شادی نہیں کی بلکہ تجردانہ زندگی بسر کی۔
آپ کی وفات 22 جنوری 1907ء بمطابق 1324ھ کو اپنے آبائی وطن کھڑی شریف ضلع میر پور میں ہوئی اور وہاں پر ہی آپ کا مزار بھی ہے۔
میاں محمد بخش کی شخصیت ایک ولی کامل اور صوفی بزرگ تھے آپ نے اپنے کلام میں سچے موتی اور ہیرے پروئے ہیں ایک ایک مصرعے میں دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ ان کی شاعری زبان زد عام ہے۔
———-
یہ بھی پڑھیں : میاں محمد بخش (1830 تا 1907)
———-
مطبوعہ کلام
———-
سیف الملوک ان کی شاہکار نظم ہے۔ جس کا اصل نام سفر العشق ہے اور معروف نام سیف الملوک و بدیع الجمال ہے
تحفہ میراں کرامات غوث اعظم
تحفہ رسولیہ معجزات جناب سرور کائنات
ہدایت المسلمین
گلزار فقیر
نیرنگ عشق
سخی خواص خان
سوہنی میہنوال
قصہ مرزا صاحباں
سی حرفی سسی پنوں
قصہ شیخ صنعان
نیرنگ شاہ منصور
تذکرہ مقیمی
پنج گنج جو سی حرفیوں کی کتاب ہے جس میں پانچ سی حرفیاں اور سی حرفی مقبول شامل ہے۔
———-
حضرت میاں محمد بخش: ایک آفاقی شاعر
———-
میاں محمد بخش کی نگری کا باسی ہو نے کی و جہ سے ہم پر ایک قرض ہے کہ ان کے کلام پر تحقیق کی جائے۔ حضرت میاں محمد بخش رحمتہ ایک بلند درجہ عارف اور ولی اللہ ہونے کے علاوہ ایک آفاقی شاعر بھی تھے۔ آپ نے عاشق حقیقی اور محبوب حقیقی کے تعلق کو مجازی روپ میں پیش کیا ہے۔ آپ کا اصل موضوع حسن وعشق اور پیار محبت ہے۔ خدا کی ذات اور صفحات کو پہچاننا۔ کارخانہ قدرت میں تدبر اور فکر کرنا۔ اپنے آپ کو پہچاننا اور خالق کائنات کی معرفت میں لگے رہنا اور طلب وجستجو سے کبھی نہ اْکتانا آپ کی شاعری کے موضوہات ہیں۔ لیکن آپ کا بنیادی نظریہ طلب۔ لوڑ اور جستجو ہے۔
آپ نے سیف الملوک کی داستان سفرِعشق اپنے مرشد اور بڑے بھائی جناب میاں بہاول بخش رحمتہ کی فرمائش پر لکھی۔ انھوں نے کہیں کتابوں میں یہ قصہ پڑھا تھا اور آپ سے فرمائش کی کہ وہ یہ قصہ منظوم کریں۔
———-
سیف ملو کے دی گل اونہاں کسے کتابوں ڈٹھی
اس قصے دی طلب پیہو نیں میں ول کر دے چھٹی
———-
لیکن ایسا قصہ منظوم کرنا جو کہ اپنے مرشد کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی پسند آئے ایک بہت ہی مشکل کام تھا۔ وہ اپنے مرشد کو ناراض بھی نہیں کر سکتے تھے اس لیے اس مشکل کام کو کرنے کی ٹھان لی۔
———-
گھمن گھیر فکر دے اندر پیا عقل تا ٹلا
ناں ایہہ لکھیا موڑن ہوندا ناں او کم سوکھالا
———-
آپ نے اس قصہ کو منظوم کرنے کا بیڑہ اْٹھایا اور ایک ایسا شاہکار قصہ تصنیف ہوا۔ جو پنجابی ادب میں ایک گراں قدر اہمیت رکھتا ہے۔
———-
قصہ اوکھا نالے لماں زور کمی پَنڈ بھاری
ڈاہڈ ے دا فرمان نہ مڑدا روگی جند بچاری
———-
لگا کہن فقیر حضوری بنھ لے لک جواناں
کامل پیر کرے گا مدد ہو جاہ بھر مَر داناں
———-
سیف الملوک اگرچہ حسن و عشق کی ایک رومانوی داستان ہے۔ لیکن میاں محمد بخش رحمتہ نے اس کوتصوف کے رنگ میں بہت عمدگی سے پیش کیا ہے۔ سیف الملوک ایک شہزادی اور شہزادے کی عشقیہ داستان ہی نہیں بلکہ گنجینہ معرفت اور مخز ن اخلاق بھی ہے۔
آپ اپنی شاعری اور سخن کے حوالے سے بہت فکر مند تھے۔ اس دور میں سخن شناس بھی بہت کم تھے۔ ا س لیے ٔ آپ چاہتے تھے کہ آپ کے کلام کو صیح تلفظ سے اورسمجھ کر پڑھا جائے۔ اورجو مضمون اور رمزیں انھوں نے اپنے کلام میں پیش کی ہیں پڑھنے والوں کو ان کی سمجھ بھی آئے۔ وہ اپنے سخن کو اولاد سے زیادہ چاہتے تھے۔ آپ نے کتاب میں ایک پورا باب اپنے پڑھنے والوں کے لئے ہدایات اور سخن شناسی پر لکھا ہے۔ آپ نے کہیں بھی اپنی بڑائی بیان نہیں کی۔
———-
یہ بھی پڑھیں : پنجابی زُبان کے معروف عوامی شاعر استاد دامن کا یومِ پیدائش
———-
میرے نالوں ہر کوئی بہتر مینیہن ٔ نیچ ایاناں
تھوڑا بہتا شعر سخن دا گھاٹا وادھا جاناں
———-
میاں محمد بخش کلام پڑھنے والوں کو نصیحت فرماتے ہیں کہ میرے اشعار کو صحیح طریقے سے پڑھیں۔ کیونکہ جس طرح ان کو اپنے بیٹے پیارے ہیں مجھے بھی اپنے بیت سے بہت پیار ہے۔ آپ کے بیٹوں کو کوئی مارے تو جس طرح آپ کو تکلیف ہوتی ہے۔ اسی طرح غلط بیت پڑھنے پرمجھے بھی تکلیف ہوتی ہے۔
———-
کرے سوال فقیر محمد پڑھنے والے تائیں
رونق کھڑیں نہ شعر میرے دی نال ادا سنائیں
سٹ پسٹا کر کے پڑھیاں لذت کچھ نہ ریہندی
جس دے بیٹے نوں کوئی مارے کد اس دی جند سہندی
دشمن وانگ دسے او سانوں جے کوئی بیت تروڑے
بیٹے نازک لال سندر دے ایویں کن مروڑے
———-
آپ فرماتے ہیں کہ عارفانہ کلام کو گہری نظر سے پڑھ۔ سن اور سمجھ کر ہی اس میں پہناں رمزوں سے آگاہی ہوتی ہے۔ اور دھیان لگا کر ہی گیان کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے۔ درد مند دل رکھنے والوں کو جب کلام کی صحیح سمجھ آتی ہے تو پھر وہ دل سے روتے ہیں۔
———-
جنھاں طلب قصے دی ہوسی سن قصہ خوش ہوسن
جنھاں جاگ عشق دی سینے جاگ سویلے روسن
———-
ایک بہت اچھے شاعر، درد دل رکھنے اور اپنے پیر مرشد کے گدی نشین ہونے کے باوجود اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ اپنی ذات کی نفی اور ہر ایک کو اپنے سے بہتر گرداننا بھی ایک فقیر یا صفا کی نشانی ہوتی ہے جو آپ میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ آپ ایک صاحب طرز اور باکمال شاعرتھے۔
آپ نے یہ قصہ جب مکمل کیا تو اس وقت 1279 ہجری کا سال تھا۔ اور آپ کی عمراس وقت تینتیس 33 سال تھی۔ میاں محمد بخش نے اس کو اپنے کلام کے آغاز میں یوں بیان کیا ہے۔
———-
سن مقدس ہجری وساں باراں سے ست داہے
ست اُتے د و ہور محمد اوپراس تھیں آہے
———-
شاعر کے اوصاف بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ جس شاعر کے اندر درد دل ہو وہی صیح بات کرتا ہے۔ اپنے اندر کو جلا کر اور دکھی دل سے جو آواز نکلتی ہے وہ اثر رکھتی ہے۔
———-
جس وچ گجھی رمز نہ ہووے درد مندا ں دے حالوں
بہتر چپ محمد بخشا سخن ا جییے ٔ نالوں
———-
جو شاعر بے پیڑا ہووے سخن اودھے وی رْکھے
بے پیڑے تھیں شعر نہ ہوندا اَگ بن دھواں نہ دْھکھے
———-
اکثرمحافل سیف الملوک میں کلام پڑھا، سنا اور سنایا جاتا ہے لیکن افسوس کہ محض قاری حضرات کی آواز اور طرز بیان کو سراہا جاتا ہے۔ میرے خیال میں عارفانہ کلام کے مغز و معانی سے رغبت کا اظہار زیادہ ضروری ہے۔ ہونا یہ چاہے کہ کلام پڑھنے کے بعد اس کے معنی ومفہوم بیان کیے جائیں۔ آپ کا سارا کلام بڑی آسان زبان میں ہے لیکن وقت کے ارتقا کی وجہ سے زبانوں میں بھی تبدیلی آ ئی ہے۔ اس وجہ سے بدلتے وقت کے ساتھ بہت سے الفاظ ہماری روز مرہ بول چال میں متروک ہو چکے ہیں۔ پنجابی زبان کی فی زمانہ بد قسمتی یہ ہے کہ اس کو بولنے والے کو ان پڑھ اور جاہل تصور کیا جاتا ہے۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم اس کی ترویج کے لئے کام کریں۔
———-
یہ بھی پڑھیں : کوئی قسمت والا بن دا اے مہمان مدینے والے دا
———-
سخن بھلا جو دردوں بھر یا بن دردوں کچھ ناہیں
نڑاں کماواں فرق رہو دا کیا کانے کیا کا ہیں
درد منداں ہے سخن محمد دیہن گواہی حالوں
جس پلے پْھل بدھے ہوون آوے بْو رومالوں
———-
گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بہت سا ایسا کلام بھی آپ کے ساتھ منسوب کر دیا گیا ہے جو کہ آپ کا نہیں ہے اور نہ ہی آپ کی کسی کتاب کے اولین شائع ہونے والے نسخہ میں ہے اسی طرح بہت سے گلوکاروں نے مختلف اشعار اپنی طرف سے سیف الملوک کی گائیکی کے اندر شامل کیے ہیں جو کہ آ پ کے نہیں ہیں۔
حال ہی میں جناب پروفیسر سعید احمد نے گہری تحقیق کے بعد ایسے اشعار کی ایک طویل فہرست مرتب کی ہے۔ جو کہ میاں محمد بخش صاحب کے نام سے غلط منسوب کیے گیے ہیں۔ سہ ماہی ٰ جواہرٰ اپریل تا جون 2017 میں ان اشعار کی تفصیل مہیا کی گئی ہے اس کے علاوہ کافی سارے اشعار جزوی تبدیلی سے بھی اکثر محافل میں پڑھے جاتے ہیں ان کی فہرست بھی اس ضمیمہ میں موجود ہے۔ یہ اشعار میاں صاحب کے نہیں ہیں
———-
اچاناں رکھایا جس تے چلھے دے وچ سڑیا
نیو اں ہو کے لنگھ محمد لنگھ جائیں گا اڑیا
اک گناہ میرا ماں پیو ویکھن دیون دیس نکالا
لکھ گناہ میرا اللہ ویکھے تے اوہ پردے پاون والا
بھائی بھائیاں دے درد ونڈاندے بھائی بھائیاں دیا ں باہواں
باپ سراں دے تاج محمد تے ما و ا ں ٹھنڈیاں چھاواں
مالی دا کم پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھل پُھل لانا لاوے یا نہ لاوے
عدل کریں تے تھر تھر کمبن ا ’چیاؒں شاناں والے
فضل کریں تے بخشے جاوں میں ورگے منہ کالے
———-
کچھ اشعار جو کہ تھوڑے بہت اضافے یا ردوبدل کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں وہ بھی غلط ہیں سیف الملوک کی ابتدائی اشاعتوں میں وہ صحیح طور پر درج ہیں۔ غلط اضافہ کے ساتھ درج ذیل اشعار کچھ اس طرح پڑھے جاتے ہیں
———-
پھس گئی جان شکنجے اندر جوں ویلن وچ گناں
روہ نوں کہو اج رہوے محمد ہون جے رہوے تے مناں
———-
صحیح شعر کچھ یوں ہے۔
———-
پکڑی جان عذاباں جیونکر بیلنیاں منہ گناں
آکھن رہو نہ رہاں محمد صبر پیا بن بھناں
———-
عموماً گلوکار پوری تحقیق کے بغیر ہی جو کلام کسی نے لکھ کر دیا ہوتا ہے وہ گا دیتے ہیں اسی طرح بہت سے معروف گلوکاروں نے بھی کسی اور شاعر کے اشعار سیف الملوک کے ساتھ ملا کے گا چھوڑے ہیں کچھ غلط اشعار بھی شامل کر لیتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی بھی شاعر کا کلام گانے سے پہلے پوری تحقیق کر لی جائے صوفیانہ کلام میں چونکہ کاپی رائٹ بھی نہیں ہے اس لیے جس کا جو بھی جی چاہتا ہے کرتا ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔
———-
یہ بھی پڑھیں : اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں
———-
نمونہ کلام
———-
اول حمد ثنا الہی تے جو مالک ہر ہر دا
اس دا نام چتارن والا کسے وی میدان نا ہردا
روح درود گھنن سب جاسن آپو اپنے گھر نوں
تیرا روح محمد بخشا تکسی کیڑے در نوں
نیچاں دی اشنائ کولوں فیض کسے نہ پایا
ککر تے انگور چڑھایا تے ہر گچھا زخمایا
خاصاں دی گل عاماں آگے تے نئیں مناسب کرنی
مٹھی کھیر پکا محمد کتیاں اگے دھرنی
باغ بہاراں تے گلزاراں بن یاراں کس کاری
یار ملے دکھ جان ہزاراں شکر کہاں لکھ واری
اچی جائ نیوں لگایا بنڑی مصیبت بھاری
یاراں باجھ محمد بخشا، کون کرے غمخواری
لوئے لوئے بھر لے کُڑیے، جے ددھ بھانڈا بھرناں
شام پئی بِن شام محمد، گھر جاندی نیں ڈرناں
مرنا مرنا ہر کوئی آکھے ، میں وی آکھاں مرنا
جس مرنے وِچ یار نئی راضی، اُس مرنے دا کی کرنا​
بیلی بیلی ہر کوئی آکھے تے میں وی آکھاں بیلی
اس ویلے دا کوئی نہ بیلی جدوں نکلے جان اکیلی
پھس گئی جان شکنجے اندر جیوں ویلن وچ گنا
رو نوں کہو ہن رہو محمد جے ہن رہوے تے مناں
ربّا توں بیلی تے سب جگ بیلی ان بیلی وی بیلی
سجناں باجھ محمد بخشا سُنجی پئی حویلی
———-
دشمن مرے تے خوشی نی کریے ہوے سجنا وی مر جانا
ای گر تے دن ھویا محمد تے اوڑک نو ڈوب جانا
کام تمام میسر ھوندے ہو تے نام اودا چت دھریاں
رحم سکے ساوے کردا قہر ساڑے ھریاں
بادشاہا تھیں بھیک منگاوے تے تخت بھاوے کایی
کج پرواہ نی گھر اس دے تے دایم بے پروایی
اپ مکانوں خالی اس تھیں کویی مکان نا خالی
ہر ویلے ہر چیز محمد تے رکھدا نت سنمبھالی
ہر در توں ترکارن ھندا جو اس در تھیں مڑیا
اوسے دا اس شان ودایا جو اس پاسے اڑیا
واہ کریم امت دا والی ہو تے مھر شفاعت کردا
جبراییل جے جسدے چاکر تے نبیاں دا سرکردا
او محبوب حبیب ربانی تے حامی روز حشردا
اپ یتیم یتیم داییں ہتھ سرے پر تردا
تے حسن بازار اودے سو یوسف پردے ھون پکاندے
ذولقرنین سلیمان جیسے خدمت گار کہاندے
موسی خضر نقیب اناں دے اگے پجن راہی
تے او سلطان محمد والی مرسل ہور سپاہی
تے جیون جیون جھوٹا ماواں موت کھلی سر اتے
لاکھ کڑوڑ تیرے تھیں سونے خاک اندر چل ستے
بن ایی جند نکلے ناہیں ہوتے کویی جہان نا چلدا
کعبے دے ہتھ قلم محمد تے ھور نی کج چلدا
کیتی بے فرمانی تیری پلا پھرے اس راہوں
تے نام اللہ بخشش بے ادبی تے ناکر پکڑ گناہوں
چل چل پار نا ہاریں ہمت تو ہک دن بھرسیں پاسا
بھکا منگن چڑے محمد اوڑک بھر د کاسا
جس دل اندر ہوے پایی ہک رتی چنگاری
اے قصہ بل بل بھامبڑ بندا نال ربے دی یاری
جس دل اندر عشق نا رچیا ہوتے کتے اس تو چنگے
خاوند دے گھر راکھی کردے سب پھکے ننگے
جناں دکھاں وچ دل بھر راضی تے اناں تو سکھ وارے
دکھ قبول محمد بخشا تے راضی رہن پیارے
راتیں زاری کر کر رویں اوتے نیند اکھیں دی کھوندے
فجر او گنہگار کہلاون ہر تھیں نیویں ھوندے
ھسن کھڈن نال لگ اوں ھو سٹ کے ڈونگیاں فکراں
تے پاٹی لیر پرانی وانگوں ٹنگ گیاں وچ ککراں
جناں تنا عشق سمانا ہو تے رونا کم اناں
ملدے دے رونا بچھڑے رونا تے رونا ٹردے راہاں
جس تنمبے نال گڑتی دیندے اوس تنمبے نال پانی
تے جیڑے اے میر محمد اوھو اے مکانی
ریت وجود تیرے وچ سونا تے اویں نطر نا اویں
ھنجوں دا ہتھ پانی دوھویں تے ریت مٹی ڑوڑ جاوے
جس دل اندر عشق سمانا ہو تے اوس نی فر جانا
بڑے سونے ملن ہزاراں اساں نی او یار وٹانا
عشق کیا میں بن بن کھڑیاں دودھ تھیں پلیاں پلیاں
ماھی بابل پٹ پٹ تھکے تے واہاں مول نا چلیاں
الوداع اٹھ چلیں ساتھی ہو ڈٹھی گور اڈاراں
نت اداسیں تے کرلاسیں کر کر یاد کتاراں
ہاے افسوس نا دوش کسے تے لکھی قلم ربانی
سجنا نال محمد بخشا زہر ھوی زندگانی
ٹنڈاں پانی بھر بھر ڈولن تے وانگ دکھیاں نال
مڑ جاون خالی گھر نو جو دوڑ بھراواں بھیناں
ہک بلبل ایس واقعے اندر ہو تے ال نا ریی سمندی
اجے نی چڑھیا نی کوڑھ محمد تے اڑ گی اے کرلاندی
مالی دا کم پانی دینا اوتے بھر بھر مشقاں پاوے
مالک دا کم پھل پھل لانا لاوے یا نا لاوے
تے بس اساں دا وس نی چلدا کی اس ساڈا کھونا
لسے دا کی زور محمد تے نس جانا یا رونا
میں اندھاں تے تلکن رستہ او کیوں کر روییں سمبھالا
دکھے دیون والے بوتے تے او ہتھ پکڑن والا
مان نا کریو روپ گھنے دا تے وارث کون حسن دا
سدا نا رہسن شاخن ہریاں تے سدا ناں پھل چمن دا
سدا نا تابش سورج والی تے جیوں کر وقت دوپہراں
بےوفایی رسم، محمد تے سدا اسے وچ تیراں
سدا نی ہتھ مھندی رتے تے سدا نی چھنکن ونگاں
سدا نی چوپے جا محمد سدا نی رل مل بینا
سدا نی مرغایاں بینا تے سدا نا سر پانی
او سدا نا سیاں سیس بلاون او سدا نا سرخی لانی
مگر شکاری کرے تیاری ہو تے بار چریں دیاں ہرناں
جو چڑھیاں اس بینا اوڑک تے جو جمیاں اس مرنا
لاکھ ہزار بازار حسن دی تے اندر خاک سمانی
لا پریت اجی محمد تے جگ وچ روے کہانی
سدا نا باغی بلبل بولے تے سدا نا باغ بہاراں
سدا نا حسن جوانی قایم سدا نا صحبت یاراں
———-
یہ بھی پڑھیں : پنجابی زبان کے معروف عوامی شاعر استاد دامن کی برسی
———-
آ سجنا منہ دس کدائیں جان تیرے توں واری
تونہیں جان ایمان دلے دا تدھّ بن میں کس کاری
حوراں تے گلمان بہشتی چاہے خلقت ساری
تیرے باجھ محمد مینوں نہ کوئی چیز پیاری
دم دم جان لباں پر آوے چھوڑِ حویلی تن دی
کھلی اڈیکے مت ہن آوے کدھروں وا سجن دی
آویں آویں نہ چر لاویں دسیں جھات حسن دی
آئے بھور محمد بخشا کر کے آس چمن دی
سدا نہ روپ گلاباں اتے سدا نہ باغ بہاراں
سدا نہ بھج بھجِ پھیرے کرسن طوطے بھور ہزاراں
چار دہاڑے حسن جوانی مان کیا دلداراں
سکدے اسیں محمد بخشا کیوں پرواہ نہ یاراں
ربا کس نوں پھولِ سناواں درد دلے دا سارا
کون ہووے اج ساتھی میرا دکھ ونڈاون-ہاراون
جس دے نال محبت لائی چا لیا غم-کھارا
سو منہ دسدا نہیں محمد کی میرا ہن چارہ ؟
آدم پریاں کس بنائے اکو سرجن-ہاران
حسن عشقَ دو نام رکھائیوسُ نور اکو منڈھ سارا
مہبوباں دی صورتَ اتے اسے دا چمکارا
عاشق دے دل عشقَ محمد اوہو سر-نیارا
سرو برابر کد تیرے دے مول کھلو نہ سکدا
پھل گلاب تے باغ-ارم دا صورتَ تک تکِ جھکدا
یاسمین ہووے شرمندہ بدن-صفائی تکدا
ارغوان ڈبا وچ لہو چہرہ ویکھ چمکدا
کجھ وساہ نہ ساہ آئے دا مان کیہا پھر کرنا
جس جسے نوں چھنڈ چھنڈِ رکھیں خاک اندر وننجِ دھرنا
لوئِ لوئِ بھر لے کڑیئے جے تدھِ بھانڈا بھرنا
شام پئی بن شام محمد گھرِ جاندی نے ڈرنا
کستوری نے زلف تیری تھیں بو اجائب پائی
منہ تیرے تھیں پھلّ گلاباں لدھا رنگ صفائی
مہر تیری دی گرمی کولوں مہرِ تریلی آئی
لسا ہویا چن محمد حسنِ محبت لائی
طلب تیری تھیں مڑساں ناہیں جب لگ مطلب ہوندا
یا تن نال تساڈے ملسی یا روح ٹرسی روندا
قبر میری پٹِ دیکھیں سجنا جاں مر چکو سو بھوندا
کولے ہوسی کفن محمد عشقَ ہوسی اگ ڈھوندا
لمی رات وچھوڑے والی عاشق دکھیئے بھانے
قیمت جانن نین اساڈے سکھیا قدر نہ جانے
جے ہن دلبر نظریں آوے دھمیں سبہُ دھننانے
وچھڑے یار محمد بخشا ربّ کویں اج آنے
جے مہبوب میرے متلوبا ! توں سردار کہایا
میں فریادی تیں تے آیا درد فراقَ ستایا
اک دیدار تیرے نوں سکدا روح لباں پر آیا
آ مل یار محمد بخشا جاندا وقت وہایا
اک تگادا عشقَ تیرے دا دوجی بری جدائی
دور وسنیاں سجناں مینوں سخت مصیبت آئی
وس نہیں ہن رہا جیؤڑا درداں ہوش بھلائی
ہتھوں چھٹی ڈور محمد گڈی واؤ اڈائی
کر کرِ یاد سجن نوں روواں مول آرام نہ کوئی
ڈھونڈ تھکا جگ دیس تمامی رہا مقام نہ کوئی
رٹھا یار مناوے میرا کون وسیلہ ہوئی
لائِ سبون محبت والا داغ غماں دے دھوئی
جگّ پر جیون باجھ پیارے ہویا محال اسانوں
بھل گئی سدھ بدھ جاں لگا عشقَ کمال اسانوں
باغ تماشے کھیڈن ہسن ہوئے خواب اسانوں
جاون دخ محمد جس دن ہوئے جمال اسانوں
کی گل آکھِ سناواں سجنا ! درد فراقَ ستم دی
آیا حرف لباں پر جس دم پھٹ گئی جیبھ قلم دی
چٹا کاغذ داغی ہویا پھری سیاہی غم دی
دکھاں کیتا زور محمد لئیں خبر اس دم دی
پریئے ! خوف خدا توں ڈریئے کریئے مان نہ ماسہ
جوبن حسن نہ توڑ نباہو کی اس دا بھرواسا
ایہناں مونہاں تے مٹی پوسی خاک نمانی واسا
میں مر چکا تیرے بھانے اجے محمد ہاسہ
جو باطن اسِ نام محبت ظاہر حسن کہاوے
حسن محبت مہرم توڑوں کیوں مہرم شرماوے
مہرم نال ملے جد مہرم انگ نسنگ لگاوے
حسن عشقَ اک ذات محمد توڑے کوئی سداوے
کون کہے نہ جنس ایہناں نوں ؟ اکسے ماں پیو-جائے
اکو ذات ایہناں دی توڑوں اگوں رنگ وٹائے
اک کالے اک سبز کبوتر اک چٹے بنِ آئے
چٹے کالے ملن محمد نہ بنِ بہن پرائے
حسن محبت سبھ ذاتاں تھیں اچی ذات نیاری
نہ ایہہ آبی نہ ایہہ بادی نہ خاکی نہ ناری
حسن محبت ذات الٰہی کیا چبّ کیا چمیاری
عشقَ بے-شرم محمد بخشا پچھِ نہ لاندا یاری
جنس-کو-جنس محبت میلے نہیں سیانپ کردی
سورج نال لگائے یاری کت گن نیلوفر دی
بلبل نال گلے اشنائی خاروں مول نہ ڈردی
جنس-کو-جنس محمد کتھے عاشق تے دلبر دی
ہے سلطان حسن دی نگری راج سلامت تیرا
میں پردیسی ہاں فریادی عدل کریں کجھ میرا
تدھ بن جان لباں پر آئی جھلیا درد بتیرا
دے دیدار اج وقت محمد جگّ پر ہکو پھیرا
عشقَ فراقَ بے ترس سپاہی مگر پئے ہر ویلے
پٹے-بندھ سٹے وچ پیراں وانگر ہاتھی پیلے
صبر تحمل کرن نہ دندے ظالم برے مریلے
تدھ بن ایویں جان محمد جیوں دیوا بن تیلے
بستر نامرادی اتے میں بیمار پئے نوں
دارو درد تساڈا سجنا! لے آزار پئے نوں
ذکر خیال تیرا ہر ویلے درداں مار لئے نوں
ہے غمخار ہکلی جائی بیغمخار پئے نوں
چنتا فکر اندیسے آون بنھ بنھ صفاں قطاراں
وسّ نہیں کجھ چلدا میرا قسمت ہتھ مہاراں
پاسے پاسے چلی جوانی پاس نہ سدیا یاراں
ساتھی کون محمد بخشا درد ونڈے غمخاراں
مان نہ کیجے روپ گھنے دا وارث کون حسن دا
سدا نہ رہسن شاخاں ہریاں سدا نہ پھلّ چمن دا
سدا نہ بھور ہزاراں پھرسن سدا نہ وقت امن دا
مالی حکم نہ دیئ محمد کیوں اج سیر کرن دا
سدا نہ رست بازاریں وکسی سدا نہ رونق شہراں
سدا نہ موج جوانی والی سدا نہ ندیئے لہراں
سدا نہ تابش سورج والی جیوں کر وقت دپہراں
بے وفائی رسم محمد سدا ایہو وچّ دہراں
سدا نہ لاٹ چراغاں والی سدا نہ سوز پتنگاں
سدا اڈاراں نال قطاراں رہسن کد کلنگاں
سدا نہیں ہتھ مہندی رتے سدا نہ چھنکن ونگاں
سدا نہ چھوپے پا محمد رلمل بہنا سنگاں
حسن مہمان نہیں گھر باری کی اس دا کر ماناں
راتیں لتھا آن ستھوئی فجری کوچ بلاناں
سنگ دے ساتھی لدی جاندے اساں بھی ساتھ لداناں
ہتھ نہ آوے پھیر محمد جاں ایہہ وقت وہاناں
سدا نہیں مرگائیاں بہناں سدا نہیں سر پانی
سدا نہ سئیاں سیس گنداون سدا نہ سرخی لانی
لکھ ہزار بہار حسن دی خاکو وچ سمانی
لا پریت محمد جس تھیں جگّ وچ رہے کہانی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ